پولیو ویکسین کے بارے میں سوالات و جوابات
200 میں سے 1
5 سال سے کم
کوئی نہیں
1166
پولیو کیا ہے؟
پولیو ایک وائرس ہے جو بچوں کے اعصابی نظام پر حملہ کرتا ہے۔ یہ آلودہ پانی، خوراک یا ہاتھوں کے ذریعے پھیلتا ہے اور زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتا ہے۔
ہر دو سو میں سے تقریباً ایک انفیکشن مستقل معذوری کا سبب بنتا ہے، عام طور پر ٹانگوں میں۔ باقی بچوں میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں لیکن وہ وائرس پھیلاتے رہتے ہیں — اسی لیے ایک بچے کا معذور ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اس علاقے میں بہت سے بچے پہلے ہی متاثر ہو چکے ہیں۔
کیا پولیو کا علاج ممکن ہے؟
نہیں۔ فزیو تھراپی، بریسز اور سرجری سے بہتری آ سکتی ہے، لیکن وائرس سے تباہ ہونے والے اعصابی خلیے دوبارہ نہیں بنتے۔ صرف ویکسین ہی بچاؤ کا واحد ذریعہ ہے۔
بچے کو بار بار قطرے کیوں دیے جاتے ہیں؟
ہر خوراک جزوی تحفظ دیتی ہے اور مکمل قوتِ مدافعت کئی خوراکوں سے بنتی ہے۔ جن علاقوں میں پیٹ کی بیماریاں عام ہیں وہاں مزید خوراکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر مہم ان بچوں تک بھی پہنچتی ہے جو پچھلی مہم کے بعد پیدا ہوئے یا اس وقت گھر پر موجود نہیں تھے۔
یعنی ٹیم بلاوجہ دوبارہ نہیں آتی۔ جس بچے نے پانچ بار قطرے پیے ہیں وہ اس بچے سے کہیں زیادہ محفوظ ہے جس نے دو بار پیے ہیں۔
کیا ویکسین محفوظ ہے؟ کیا یہ اسلام میں جائز ہے؟
پولیو ویکسین دنیا بھر میں اربوں بار دی جا چکی ہے اور تاریخ کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ویکسینوں میں شامل ہے۔ اس میں کوئی ناجائز جزو شامل نہیں اور یہ بانجھ پن کا سبب نہیں بنتی — یہ دعویٰ بالکل بے بنیاد ہے۔
پاکستانی اور بین الاقوامی علمائے کرام، اسلامی نظریاتی کونسل، اور او آئی سی کے تحت قائم اسلامک ایڈوائزری گروپ سب اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ پولیو ویکسینیشن جائز ہے اور بچوں کو معذوری سے بچانا والدین کی ذمہ داری ہے۔ مزید تفصیل: علمائے کرام اور پولیو ویکسین۔
کیا بیمار بچے کو قطرے دیے جا سکتے ہیں؟
جی ہاں۔ معمولی بخار، نزلہ یا اسہال قطرے چھوڑنے کی وجہ نہیں۔ اگر بچہ شدید بیمار ہو تو ویکسینیشن ٹیم یا قریبی مرکزِ صحت سے رجوع کریں۔
پاکستان میں پولیو کی صورتحال کیا ہے؟
نوے کی دہائی کے اوائل میں پاکستان میں سالانہ تقریباً بیس ہزار کیسز ہوتے تھے۔ 2017 میں صرف آٹھ، 2019 میں 147، 2021 میں صرف ایک، 2024 میں 74 اور 2025 میں 31 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ستمبر 2026 تک چار کیسز سامنے آئے، جن میں سے تین جنوبی خیبر پختونخوا کے بنوں ڈویژن سے تھے۔
مزید معلومات: ضلع وار پولیو کیسز اور پولیو کی تاریخ۔
اگر ٹیم ہمارے گھر نہ آئے تو کیا کریں؟
صحت تحفظ ہیلپ لائن 1166 پر کال کریں۔ یہ مفت ہے اور اسی مقصد کے لیے بنائی گئی ہے کہ کوئی بچہ رہ نہ جائے۔
مزید
متعلقہ صفحات
پولیو پروگرام سے متعلق مزید معلومات
Sehat Tahaffuz Helpline
Contact the national emergency operations center helpline for support, vaccine verification, or to report missed vaccination teams in your area.
Dial Toll-Free: 1166