نگرانی

نگرانی

Share

 

نگرانی کے عمل کی کلیدی اہمیت

پولیو کے مرض کےخاتمے کے حوالے  سے نگرانی کے عمل کی حیثیت کلیدی ہے کیونکہ اس سے یہ پتہ چلایا جا سکتا ہے کہ پولیو وائرس کہاں کہاں پھیل رہا ہے اور اس سے کون متاثر ہو رہا ہے۔ پاکستان میں جاری پولیو پروگرام کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ بروقت اقدامات اٹھاتے ہوئے پولیو وائرس سے جڑی ہر کڑی کو مزید بڑھنے سے پہلے ہی زائل کر دیا جائے۔ نگرانی کے نظام کی اہمیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس کے دائرہ کار میں توسیع کا سلسلہ جاری ہے جس وجہ سے نا صرف پولیو کی تشخیص کے عمل میں بہتری آئی ہے بلکہ اس موذی وائرس کے نئے ممکنہ ٹھکانوں کی دریافت بھی کی جا رہی ہے۔ نگرانی کا یہ عمل پولیو کے وبائی مرض کے پھوٹنے سے قبل بروقت موثر حفاظتی اقدامات اٹھانے میں انتہائی مددگار ثابت ہو رہا ہے۔

 

جسم کے کسی حصے کے مفلوج ہوجانے کے ذریعے نگرانی کا عمل (Acute Flaccid Paralysis Surveillance)

Acute Flaccid Paralysis (AFP) کی تعریف کچھ یوں کی جاتی ہے، "15 سال سے کم عمر کے بچے میں کسی بھی وجہ سے، فالج کی ابتدائی علامات کا رونما ہونا یا پٹھوں میں شدید قسم کی کمزوری محسوس کرنا؛ علاوہ ازیں کسی بھی عمر کا شخص جس میں فالج کے مرض کی تشخیص ہو اور ڈاکٹر/ معالج پولیو کے شبے کا اظہار کریں"۔

 

جسم کے کسی حصے کے مفلوج ہوجانے کے ذریعے نگرانی کا عمل (Acute Flaccid Paralysis Surveillance) پولیو کے تدارک کے لیے ترتیب دی گئی حکمت عملی کے ان چار بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے جس میں فالج کے مرض کی علامات کومد نظررکھتے ہوئے ایک مربوط نظام کے ذریعے پولیو کے تمام کیسز کی تشخیص کی جاتی ہے۔

 

اگرچہ پاکستان میں اے ایف پی سرویلینس (AFP Surveillance) کا آغاز 1997ء میں ہو گیا تھا تاہم اس کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے سنہ 2000ء میں ماہرینِ صحت نے نگرانی کے اس عمل کو پولیو کے تدارک کی جدوجہد میں کلیدی کردار کے طور پر متعارف کرایا۔ دورِ حاضر میں پاکستان کے پاس قومی، صوبائی اور ضلعی سطح پر نگرانی کے عمل کا مکمل طور پر کارآمد اور حساس نوعیت کا مربوط نظام موجود ہے۔

 

اے ایف پی سرویلینس (AFP Surveillance) میں ڈاکٹر حضرات یا کمیونٹی کے نمائندگان براہ راست عملی طور پر اپنا کردارادا کرتے ہیں۔ نگرانی کے فعال عمل یعنی Active Surveillance میں ہفتہ وار بنیادوں پرصحت اور ترجیحی سہولیات کے مراکز کے دوروں کا باقاعدگی سے اہتمام کیا جاتا ہے، جبکہ غیر فعال نگرانی کے عمل یعنی Passive Surveillance کا انعقاد ابتدائی تحفظِ صحت کے اداروں میں ہفتہ وار "Zero Reporting" کی بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔ نگرانی کا یہ نظام قومی سطح پر تشکیل دیے گئے اے ایف پی سرویلینس منصوبے (National AFP Surveillance Plan) کے بنیادی رہنما اصولوں کے تحت چلایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں باقاعدگی سے فیلڈ سے اکھٹی ہونے والی معلومات کا مختلف زاویوں سے جائزہ لیا جاتا ہے تا کہ نگرانی کے اس عمل میں اعلیٰ معیار کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔

 

فضلے کے نمونہ جات کی تحقیق کے دوران ابتدائی مرحلے میں پولیو وائرس کی شناخت اور پھر اسے فضلے سے علیحدہ کرنا،  کسی بھی مریض میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق کا بہترین طریقہ کارہے۔ اس قسم کی تحقیقی خدمات کی فراہمی کے لیےعالمی ادارہ صحت (WHO) نے دنیا بھر میں صحت کے دیگر اداروں کے اشتراک سے تجربہ گاہوں کا وسیع جال بچھا دیا ہے۔  قومی ادارہ صحت (NIH) اسلام آباد میں قائم وائرس سائنس پر تحقیق کرنے والی وائرولوجی لیبارٹری (Virology Laboratories) پولیو کے تدارک کے لیے ریجنل ریفرنس لیبارٹری (RRL) کے طور پر جانی جاتی ہے جو کہ نا صرف کوالٹی کنٹرول کے اعلیٰ معیار کا مظہر ہے بلکہ درست معلومات اور نتائج کے حوالے سے بین الاقوامی اہداف حاصل کرنے کے عمل کو بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ رپورٹ شدہ AFP کیسز میں تمام مریضوں کے فضلے کے نمونہ جات حاصل کرنے کے بعد یہاں RRL میں ان پر تحقیق کی جاتی ہے۔ پولیو وائرس کے پھیلنے کے پیچھے محرکات معلوم کرنے کے لیے نمونہ جات کو جینیاتی ترتیب (Genomic Sequencing) کے عمل سے گزارا جاتا ہے تاکہ پولیو وائرس کو ان تمام وائرس سے علیحدہ کیا جائے جن کا پولیو وائرس سے جینیاتی تعلق مشاہدے میں آیا ہو۔

 

ریجنل ریفرنس لیبارٹری (RRL) کا پولیو کے تدارک کے حوالے سے کردار ہمیشہ کلیدی رہے گا کیونکہ پولیو کے موذی وائرس کے عدم پھیلائو کی تصدیق کے حوالے سے RRL ایک با اختیار ادارہ ہے۔

 

ماحولیاتی نگرانی کا عمل

اے ایف پی سرویلینس کے علاوہ، ماحولیاتی نگرانی یعنی Environmental Surveillance بھی پولیو وائرس کی نقل و حمل کی نگرانی کے حوالے سے ایک انتہائی حساس نوعیت کا تحقیقی عمل ہے۔ ماحولیاتی نگرانی کے عمل میں نکاسی آب سے گندے پانی اور دیگر ماحولیاتی نمونہ جات حاصل کر کے ان پر تحقیق کی جاتی ہے تاکہ پولیو وائرس کی موجودگی کا پتہ چلایا جا سکے۔ پاکستان میں، پولیو کے تدارک کے لیے جاری پروگرام میں ماحولیاتی نگرانی کے عمل یعنی Environmental Surveillance کو 2009ء سے استعمال میں لایا جا رہا ہے تاکہ پولیو کے ممکنہ ٹھکانوں کے ماحولیاتی نمونہ جات پر تحقیق کر کے موذی وائرس کی ان علاقوں میں موجودگی کا پتہ چلایا جا سکے۔

 

گذشتہ چند سالوں میں ماحولیاتی نگرانی کے لیے مشتبہ علاقوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ حال ہی میں پاکستان کے 33 اضلاع/قصبوں میں ماحولیاتی نمونہ جات کے حصول کے لیے 53 کے قریب مختلف جگہوں کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ ان علاقوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کا پتہ چلایا جا سکے۔

 

پاکستان میں ماحولیاتی نگرانی کے عمل کے دائرہ کار میں توسیع کا سلسلہ جاری ہے، جس کی وجہ سے مثبت رحجان کے ماحولیاتی نمونہ جات کی تعداد میں نصف کمی واقع ہوئی ہے جو سال 2015ء میں سال 2016ء کی نسبت دگنی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک بھر میں پولیو وائرس کے پھیلنے کی شرح میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔

 

صحت مند بچوں کے فضلے پر تحقیقی سروے

اس پروگرام کے تحت انتہائی تشویش کی آبادیوں میں رہائش پذیر بچوں کے فضلے کا تحقیقی معائنہ کیا جاتا ہے تاکہ فالج کے مرض میں مبتلا مریض بچوں کے علاوہ دیگر صحت مند بچوں کے ذریعے پولیو وائرس کی ترسیل اور پھیلائو کو بروقت روکا جا سکے۔ کیونکہ صرف معمول کی AFP Surveillance کے تحت اس وائرس کی تشخیص ایک مشکل عمل ہے۔