غیر ریاستی عناصر کی بزدلانہ کاروائیاں پاکستان سے پولیو کے خاتمے کے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں

غیر ریاستی عناصر کی بزدلانہ کاروائیاں پاکستان سے پولیو کے خاتمے کے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں

Share

اسلام آباد: وفاقی وزیر قومی صحت، سائرہ افضل تارڑ اور وزیر اعظم کی ترجمان برائے پولیو تدارک پروگرام، سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے صوبہ بلوچستان میں معصوم پولیو ورکرز پر بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے سالکوٹ میں دہشت گردوں کے ایک حملے میں صف اول کی دو خاتون پولیو ورکرز شہید ہو گئی ہیں۔

موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے صحت محافظ سکینہ بی بی اور انکی بیٹی رضوانہ بی بی کو اس وقت گولیاں مار کر شہید کر دیا جب وہ پولیو کے تدارک کے لیے جاری قومی پولیو مہم کے دوران بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلانے میں اپنے فرائض سرانجام دے رہیں تھیں۔ یاد رہے یہ افسوسناک واقعہ صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے سالکوٹ میں پیش آیا ہے۔ قانون نافذ کرنے ولے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ اپریشن شروع کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدلالقدوس بزنجو نے شہید ہونے والی پولیو ورکرز کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے پولیس کو ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے ہیں۔

وفاقی وزیر قومی صحت سائرہ افضل تارڑ اور وزیر اعظم کی ترجمان برائے پولیو تدارک پروگرام، سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردوں کی بزدلانہ کاروائیاں اور غیر انسانی رویہ پاکستان سے پولیو کے خاتمے کے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ "شہید پولیو وکرز کی قربانی نے بلاشبہ ملک سے پولیو کے خاتمے کے قومی عزم کو ایک نئی تقویت بخشی ہے، پاکستانی قوم ہماری آنے والی نسلوں کو اس موذی مرض سے تحفظ فراہم کرنے میں شہید پولیو ورکرز کی اس قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرے گی"۔

ان کا مزید کہنا تھا، "ہماری تمام تر ہمدردیاں متاثرہ خاندان کے ساتھ ہیں اور ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ شہداء پولیو ورکرز کے درجات کو بلند کرے"۔ پاکستان پولیو پروگرام نے گذشتہ چند سالوں میں قابلِ تحسین کارکردگی دکھاتے ہوئے لازوال کامیابیاں حاصل کی ہیں جس کا انداز اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سال 2014 میں پولیو سے متاثرہ کیسز کی تعداد 306 تھی جو گذشتہ سال 2017 میں کم ہو کر اب صرف 8 رہ گئی ہے۔ اس کامیابی کا سہرا محنت، لگن اور بہادری کے ساتھ اپنے فرایض سرانجام دینے والے ہمارے صف اول کے پولیوورکرز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور دیگر معاون سٹاف کے سر ہے۔ اپنے مشترکہ بیان میں وفاقی وزیر قومی صحت سائرہ افضل تارڑ اور وزیر اعظم کی ترجمان برائے پولیو تدارک پروگرام، سینیٹر عائشہ رضا فاروق کا مزید کہنا تھا، "ہماری کامیابی کی منزل اب زیادہ دور نہیں۔ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے جاری اس مشترکہ جدوجہد کو ہم شہید پولیو ورکرز سکینہ اور انکی بیٹی رضوانہ کے نام کرتے ہیں"۔