پولیو کے خلاف جنگ میں بے مثال کامیابیوں کو سمیٹے سال 2017ء اپنے اختتام کو پہنچتا ہے

پولیو کے خلاف جنگ میں بے مثال کامیابیوں کو سمیٹے سال 2017ء اپنے اختتام کو پہنچتا ہے

Share

سینیٹر عائشہ رضا فاروق

جیسا کہ الوداعی سال 2017ء کا سورج غروب ہونے کو ہے اور ہم صحت مند زندگی کے حصول کے لیے امید کی کرنیں سمیٹے نیک خواہشات کے ساتھ نئے سال 2018ء کا سورج طلوع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں، اس موقع پر عظیم قائد بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے سنہرے اقوال میں سے ایک قول ہمیں پولیو کے تدارک جیسے نیک مقصد کے حصول میں مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے – 'ایمان، نظم و ضبط اور بے لوث لگن کو اپناتے ہوئے دنیا میں کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں ہے جسے حاصل نہ کیا جاسکتا ہو'۔ آئیے! پولیو کے مکمل تدارک تک جدوجہد جاری رکھنے کے قومی عزم اور جذبے کے ساتھ نئے سال میں داخل ہوں۔ 2017ء پاکستان کے پولیو تدارک پروگرام کے لیے ایک مرتبہ پھر تاریخی اور مثالی سال ثابت ہوا۔ سال 2017ء کے دوران پولیو کیسز کے حوالے سے 2014ء کی نسبت 97 فیصد کمی کے ساتھ نمایاں رہا جو کہ انتہائی خوش آئند ہے۔ سال 2014ء میں ملک بھر سے پولیو سے متاثرہ 306 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 2015ء میں یہ تعداد کم ہو کر 54، 2016ء میں 20 جبکہ 2017ء میں پولیو سے متاثرہ صرف 8 کیسز رپورٹ ہوئے۔

ہم اپنے تمام ویکسینیٹرز، حکومتی اہلکار، اشتراکی اداروں اور لاکھوں کی تعداد میں والدین اور بچوں کی نگہداشت پر مامور افراد کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے سال 2017ء کے دوران بچوں کو پولیو کے مہلک مرض سے بچاؤ کے لیے حفاظتی قطرے پلانے میں مثالی تعاون فراہم کیا۔ یہاں ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ان تمام مرد اور خواتین اہلکاروں کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس نیک مقصد میں ہمیں شانہ بشانہ بھرپور تعاون فراہم کرتے ہوئے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلوانے کے عمل کو یقینی بنایا ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اہلکاروں کی مدد کے بغیر اس نیک مقصد میں لازوال کامیابیوں کی تاریخ رقم کرنا شاید ایک غیر ممکن عمل تھا۔ دنیا سے پولیو کے مکمل تدارک کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی، سیاسی قیادت و تعاون، محنت ، غیر معمولی حکمت عملی، پولیو پروگرام کی تیاری کے تمام مراحل اور حقائق کے قریب ترین معلومات کے حصول کے حوالے سے ہم ہی سر فہرست رہیں گے۔

بلاشبہ پولیو کے مکمل تدارک کا خواب پولیو کیسز کی تعداد کو مستقل بنیادوں پر صفر کے ہندسے پر رکھنے سے براہ راست منسلک ہے۔ پولیو کے مکمل تدارک کے پروگرام میں بے مثال کامیابیوں کے باوجود ہم ابھی تک اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں پوری طرح کامیابی حاصل نہیں کر سکے کیونکہ یہ موذی وائرس آج بھی ہماری آب و ہوا میں کہیں نہ کہیں موجود ہے جس کی وجہ سے بچوں کو اس موذی وائرس کے حملے کے خطرات آج بھی لاحق ہیں۔ درحقیقت پولیو کے خلاف جاری جنگ کے اس حتمی مرحلے میں ہمیں غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔ مثال کے طور پر 2016ء کے مختلف ادوار میں کراچی شہر کو پولیو کے موذی وائرس سے مکمل محفوظ بنا دیا گیا تھا لیکن بد قسمتی سے یہ شہر ایک مرتبہ پھر اس موذی وائرس کی لپیٹ میں آ گیا۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سندھ کے صوبائی اداروں نے موذی امراض سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں سمیت بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلانے کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر 500 سے زائد ڈاکٹرز کی خدمات حاصل کیں۔دوسری جانب بلوچستان میں بھی پولیو سمیت بچوں کو موزی امراض سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے 1000 سے زائد کمیونٹی ہیلتھ ورکرز اور 300 ٹیکنیشنز کی خدمات حاصل کی گئیں تاکہ صف اول کے ویکسینیٹر زکو فرائض کی ادائیگی کے حوالے سے مزید منظم اور فعال بنایا جا سکے۔ اسی طرح کی کوششوں کو صوبہ خیبر پختونخواہ، فاٹا، پنجاب اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی عمل میں لایا گیا تاکہ پولیو سمیت دیگر موذی امراض کے خلاف جاری جنگ میں مستحکم اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جاسکے۔

ہم پاکستان سے پولیو کے مکمل تدارک کے ہدف کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں اور اس امید کے ساتھ کہ نیا سال 2018ء پولیو وائرس کے وجود کا آخری سال ہو گا، ہم نے مربوط حکمت عملی کے حوالے سے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ مثبت انداز میں آگے بڑھتے ہوئے اور پولیو کے تدارک کو قومی سلامتی کا درجہ دیتے ہوئے ہمیں اپنی جدوجہد کو ایک نئے عزم، جذبے اور مربوط حکمت عملی کے ساتھ جاری رکھنا ہو گا۔

پولیو کے مکمل تدارک کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتیں اپنا بھرپور تعاون جاری رکھے ہوئی ہیں۔ ہمیں ان تمام حکومتی ذمہ داران اور ایڈمنسٹریٹرز کی کارکردگی کو بڑھانے کے حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر مثبت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جو براہ راست ویکسینیشن ٹیموں کے ساتھ مل کر پولیو تدارک پروگرام کو فعال انداز میں چلانے اور نگرانی کے عمل سے منسلک ہیں۔ یہاں اس امر کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ بین الاقوامی اور قومی صحت کے اداروں کی جانب سے پولیو سے ممکنہ متاثرہ قرار دیے گئے علاقوں میں موجودہ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں تک ویکسینیش ٹیموں کی رسائی کو ممکن بنایا جائے اور بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے ہر بار لازمی پلائے جائیں۔

میں یہاں تمام کمیونیٹیز اور خاندانوں سے یہ کہنا چاہوں گی کہ وہ صحت محافظ کی ٹیموں کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھیں تاکہ وہ آپ کے بچوں کو موذی امراض سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں کے علاوہ پولیو سے بچاؤ کے دو حفاظتی قطرے ہر بار لازمی پلوائیں۔ بچوں کو کتنی بار پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلائے جائیں، اس حوالے سے امور صحت کے تحقیقی اداروں کی جانب سے کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ لہذا جب بھی صحت محافظ کی ٹیمیں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلانے آپ کے دروازے پر آئیں تو اپنے بچوں کو ہر بار پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے لازمی پلوائیں۔ یاد رکھیں کہ پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے بالکل محفوظ ہیں اور اس کی اضافی خوراکیں آپکے بچے کو فائدہ ہی پہنچاتی ہیں۔ لیکن اگر ذرا سے لاپروائی کی وجہ سے پولیو کا موذی وائرس آپکے بچے کے جسم میں ایک مرتبہ سرائیت کر جائے تو بچے کو نا صرف عمر بھر کے لیے جسمانی معذوری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ بعض اوقات بچے کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ پولیو ایک لاعلاج مرض ہے لہذا والدین ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے صحت محافظ کی ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ بچوں کو ایک محفوظ اور صحت مند زندگی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔ یہ واحد طریقہ سے جس کی مدد سے ہم مستقل بنیادوں پر اپنی سرزمین سے پولیو کے موذی وائرس کے مکمل خاتمے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں۔

یہ ہی وقت ہے کہ ہم سب بطور صحت محافظ موثر انداز میں انفرادی سطح پر اپنا کردار ادا کریں! آئیے سال 2018ء میں ہم سب ملکر پہلے سے زیادہ جذبے اور عزم کے ساتھ اپنی جدوجہد کو تیز کریں۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ طے شدہ اہداف کو بطریقِ احسن بہت جلد حاصل کیا جاسکتا ہے۔

سینیٹرعائشہ رضا فاروق، وزیر اعظم کی ترجمان برائے پولیو تدارک پروگرام رابطے کے لیے ٹوئیٹر کا پتہ استعمال کریں – @AyeshaRaza13