دی انڈیپینڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ نے پولیو وائرس کے تدارک کے لیے حکومت پاکستان کے مظبوط سیاسی عزم کو سراہا ہے

دی انڈیپینڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ نے پولیو وائرس کے تدارک کے لیے حکومت پاکستان کے مظبوط سیاسی عزم کو سراہا ہے

Share

اسلام آباد، 7 دسمبر 2017: پولیو تدارک کے عالمی پروگرام (GPEI) کے انڈیپینڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ (IMB) نے پاکستان میں پولیو کے تدارک کے لیے قومی اور صوبائی سطح پر سیاسی قوتوں میں باہمی ہم آہنگی اور اس موذی وائرس کی افزائش کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے انکے مظبوط اور مستحکم عزم کو خوب سراہا ہے۔

پولیو تدارک کے پروگرام سے منسلک سٹاف اور قیادت کی انتھک جدوجہد اور انکی لگن کی تعریف کرتے ہوئے پولیو وائرس کی ہر ایک آماجگاہ تک رسائی "Every Hiding Place" کے عنوان سے دی انڈیپینڈنٹ مانیٹرنگبورڈ کی پندرہویں رپورٹ میں وزیراعظم پاکستان کی جانب سے پولیو پروگرام کی کارکردگی کی از خود نگرانی سمیت نا صرف نیشنل ٹاسک فورس بلکہ صوبائی سطح پر بھی اجلاسوں کے باقاعدگی کے ساتھ انعقاد کو سراہتے ہوئے اس عمل کو پولیو تدارک پروگرام کے مطلوبہ اہداف کے لیے خوش آئند قرار دیا ہے۔

مظبوط سیاسی تعاون کی بنیاد پر یہ ضروری ہے کہ افرادی قوت کی استعداد کار کو مستحکم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ مثال کے طور پر اسلام آباد میں تجربہ کار ہیلتھ ورکرز کی محدود استعداد مشاہدے میں آئی ہے جو کہ ایک سنجیدہ مسئلہ بن گیا ہے۔ یہاں تجربہ کار ہیلتھ ورکرز کی تعداد میں منا سب اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس طرح کے چند عوامل پولیو تدارک کے پروگرام کی نمایاں کارکردگی کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

رپورٹ میں رواں سال ماہ اکتوبر کے اختتام اور ماہِ نومبر کے آغاز کے درمیانی عرصے میں برطانیہ کے شہر لندن میں پولیو تدارک کے عالمی پروگرام (GPEI) کے سٹاف، مالی امداد کے بین الاقوامی اداروں سمیت پاکستان، افغانستان اور نائجیریا سے آئے وزراء صحت اور اعلیٰ حکومتی حکام کے مابین منعقدہ ایک اہم اجلاس کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں انڈیپینڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ (IMB) نے پولیو کے تدارک کے عالمی پروگرام (GPEI) کی پولیو وائرس کی تشخیص اور اس کی آماجگاؤں کی کھوج میں جدید بنیادوں پر استوار حکمت عملی کے نفاذ اور عالمی سطح پر پولیو کی افزائش کی روک تھام کے حوالے سے کارکردگی پر ایک مفصل اور آزاد جائزہ پیش کیا ہے۔

پاکستان میں اس موذی وائرس کی افزائش کی روک تھام کے حوالے سے موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباَ ملک کے ہر حصے سے پولیو وائرس کی افزائش اور پھیلاؤ کے عمل کو روک دیا گیا ہے تاہم پولیو کی وجہ سے جسمانی معذوری کے متاثرہ کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی کے باوجود اس موذی وائرس کی ابھی بھی پاکستان کے مختلف علاقوں کی آب و ہوا اور ماحول میں موجودگی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس وقت بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ کوئٹہ بلاک، کراچی اور سندھ کے مختلف علاقے جبکہ جڑواں شہروں اسلام آباد/راولپنڈی وہ علاقے ہیں جہاں اس موذی وائرس کی موجودگی اور افزائش کے ٹھوس شواہد موجود ہیں

پولیو تدارک کا عالمی پروگرام (GPEI) پاکستان اور افغانستان کو اس موذی وائرس کی افزائش کے حوالے سے ایک مشترک بلاک تصور کرتا ہے۔ انڈیپینڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ (IMB) نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کی حکومتیں سرحد پار علاقوں میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلوانے کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ تعاون کو جاری رکھیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیو پروگرام کی موجودہ اطمینان بخش کارکردگی کے باوجود اس موذی وائرس کے دونوں متاثرہ ممالک پاکستان اور افغانستان سے مکمل خاتمے کے لیے مربوط حکمت عملی اپناتے ہوئے جدوجہد کو پہلے سے زیادہ موثر انداز سے جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں سے سرحد پار نقل مکانی کرنے والے افراد میں پولیو ویکسینیشن کے عمل کو یقینی بنانا  ناگزیر ہے۔

انڈیپینڈنت مانیٹرنگ بورڈ (IMB) کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر آبادی کی نقل و حمل کے دوران پولیو ویکسینیشن کا عمل یقینی بنانے کے لیے انتہائی قلیل پیمانے پر منصوبہ بندی اور محتاط انداز میں آبادی کے اعداد و شمار کا ریکارڈ رکھنا اہم ترین عوامل ہیں۔ جیسا کہ پولیو پروگرام کے تحت دونوں ممالک پاکستان اور افغانستان اپنے اپنے ممالک میں پولیو وائرس کی موجودگی کے حوالے سے انتہائی تشویشناک قرار دیے گئے اضلاع میں اپنی اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں سے بڑے پیمانے پر آبادی کی نقل و حمل، باقاعدگی کے ساتھ سرحد پار سفر کرنے والی آبادی کے اعدادوشمار اور انکی نقل و حمل کی نقشہ سازی، تفصیلی جائزہ، چھوٹے علاقوں کا تجزیہ اور اضلاع کی حلقہ بندیوں میں تقسیم جیسے عوامل کو یقینی بنانے کے لیے موثر جدوجہد جاری رکھنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ پولیو سے متاثرہ علاقوں کی صحیح طور پر نشاندہی کرتے ہوئے ان علاقوں سے پولیو وائرس کی افزائش کی روک تھام اور تدارک کے عمل کو یقینی بنایا جاسکے۔

انڈیپینڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ (IMB) کا قیام سال 2010 میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کی درخواست پر عمل میں لایا گیا تاکہ پولیو تدارک کے عالمی پروگرام (GPEI) کے اسٹریٹیجک منصوبے برائے سال 2010-2012  کی کارکردگی کو مانیٹر کرتے ہوئے رہنمائی فراہم کی جاسکے۔ آئی ایم بی سہ ماہی بنیادوں پر اپنی رپورٹس کا اجراء کرتی ہے تاکہ ایمانداری کے ساتھ شفاف انداز میں پولیو تدارک کے لیے جاری عالمی پروگرام کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے مطلوبہ اہداف کے حصول کو ممکن بناے کے لیے رہنمائی فراہم کی جاسکے۔

مزید معلومات کے لیے رابطہ کیجئیے:

ساجدحسین شاہ،پبلک ریلیشن آفیسر،وزارت قومی صحت

03006305306,

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.