ہمیں اپنی جدوجہد پہلے سے زیادہ توانائی کے ساتھ جاری رکھنی ہے: سینیٹر عائشہ رضا فاروق

ہمیں اپنی جدوجہد پہلے سے زیادہ توانائی کے ساتھ جاری رکھنی ہے: سینیٹر عائشہ رضا فاروق

Share

اسلامی ترقیاتی بینک (IDB) کی جانب سے پولیو کے مکمل خاتمے تک تعاون جاری رکھنے کی یقن دہانی

اسلام آباد 8 اگست 2017: پولیو کے خاتمے کے لیے ملک میں جاری پروگرام کے استحکام میں اسلامی ترقیاتی بینک (IDB) کے قابل قدر تعاون کو سراہتے ہوئے وزیر اعظم کی ترجمان برائے پولیو تدارک پروگرام، سینیٹر عائشہ رضا فاروق کا کہنا تھا کہ "ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے ہدف کے اتنا قریب پہنچنے کے بعد ہم اپنی جدوجہد کو کمزور نہیں پڑنے دے سکتے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ ملک کے ہر بچے کو آئندہ منعقدہ ہر پولیو مہم کے دوران پولیو سے بچائو کے دو حفاظتی قطرے پلانے کے عمل کو یقینی بنایا جائے"۔سینیٹر کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اسلامی ترقیاتی بینک کے تعاون کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جبکہ حکومت نے ہمیشہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر قائم ہر فورم میں پولیو کے خاتمے کے اس نیک مقصد میں بینک کی جانب سے بے مثال تعاون کا اعتراف کیا ہے۔

وزیر اعظم کی ترجمان برائے پولیو تدارک پروگرام، سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے ان خیالات کا اظہار گذشتہ روز نیشنل ایمرجنسی اپریشن سینٹر کے دورہ پر آئے اسلامی ترقیاتی بینک کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ اسلامی ترقیاتی بینک (IDB) کے وفد کی سربراہی سعودی عرب کے شہر جدہ سے سینئر ہیلتھ اسپیشلسٹ ڈاکٹر صادق محمد طیب اور پاکستان میں بینک کے کنٹری ڈائریکٹر انعام اللہ خان نے کی۔

ملک بھر کی سیاسی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت اور ایمرجنسی اپریشن سینٹرز کے حکام کی قیادت میں صحت محافظ پر مشتمل پُر عزم ٹیم کے ساتھ ساتھ ملکی اور بین الاقوامی شراکتی اداروں کی انتھک جدہوجہد نے پولیو کے خاتمے کے پروگرام کو کامیابی کے موڑ کے انتہائی قریب لا کھڑا کیا ہے۔ "ہمارا کام ابھی مکمل نہیں ہوا ہے اور ہم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک اس موذی وائرس کو جڑ سے اکھاڑ کر ہمیشہ کے لیے ملک سے ختم نہ کر دیا جائے"،

سینیٹر عائشہ رضا نے والدین اور بچوں کی نگہداشت پر مامور افراد کو زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیو مہم کے دوران وہ اپنے بچوں کو دیگر بیماریوں کے بچائو کے لیے معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے علاوہ انہیں پولیو سے بچائو کے حفاظتی قطرے لازمی پلوائیں۔بعد ازاں ایمرجنسی اپریشن سینٹر کے نیشنل کوارڈینیٹر، ڈاکٹر رانا محمد صفدر نے پاکستان دورے پر آئے بینک کے وفد کو پاکستان میں پولیو کی موجودہ صورتحال اور پولیو پروگرام کو درپیش ممکنہ مشکلات سے نمٹنے کے حوالے سے حکمت عملی بارے تفصیلی معلومات سے آگاہ کیا۔ ڈاکٹر صفدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے جنوبی حصے میں واقع علاقہ کوئٹہ بلاک جو کہ افغانستان کے صوبے قندھار اور ہملند کی سرحد سے منسلک ہے

اس وقت پولیو وائرس کی ممکنہ آماجگاہوں کے حوالے سے انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ رواں سال 2017 میں اب تک اس علاقے سے 4 کے قریب پولیو کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے وفد کو بچوں میں قوت مدافعت میں اضافے کے علاوہ پولیو پروگرام کے تحت دونوں ہمسایہ ممالک پاکستان اور افغانستان سرحدی علاقے پر رہائش پذیر آبادی کو پولیو سے بچائو کے حفاظتی قطرے پلانے کے علاوہ دیگر بیماریوں سے بچائو کے حفاظتی ٹیکوں کے استعمال کے حوالے سے مظبوط تعاون کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

علاوہ ازیں نیشنل کوارڈینیٹر ڈاکٹر صفدر نے وفد کو پولیو پروگرام کے حوالے سے اٹھائے گئے حالیہ اقدامات، بیماریوں سے بچائو کے حفاظتی ٹیکوں کے عمل کی نگرانی اور انتہائی تشویش کے علاقوں میں بچوں تک رسائی کو یقینی بنانے کی حکمت عملی سے بھی آگاہ کیا۔ ڈاکٹر صفدر کا مزید کہنا تھا، "ہم انتہائی موثر انداز میں پولیو کے موذی وائرس کی ممکنہ آماجگاہوں کا پتہ چلانے کے لیے ملک بھر میں منتخب 53 علاقوں سے نکاسیِ آب کے نمونہ جات حاصل کر رہے ہیں تاکہ تحقیق کے بعد اس موذی وائرس کے ممکنہ ٹھکانوں کا پتہ چلایا جاسکے۔ یاد رہے کسی بھی ملک کی نسبت پاکستان میں ماحولیاتی نگرانی کے عمل کے حوالے سے یہ سب سے بڑا سرویلینس نیٹ ورک جانا جاتا ہے

"وفد نے ایمرجنسی اپریشن سینٹر کے کنٹرول روم کے علاوہ وفاقی ای پی آئی میں ویکسین کو ذخیرہ کرنے کی سہولت کے شعبے کا بھی دورہ کیا۔ وفد کے سربراہ ڈاکٹر صادق کا کہنا تھا، "ہمیں پولیو کے موذی وائرس کے خاتمے کے حوالے سے پاکستان کی بے مثال کامیابیوں کے بارے میں جان کر بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ بلکہ پاکستان میں عوامی صحت کی سہولیات سے دیگر اسلامی ممالک بھی استفادہ کر سکتے ہیں"۔ انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ اسلامی ترقیاتی بینک پولیو کے مکمل خاتمے تک پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔

پولیو کے حوالے سے ملک کی موجودہ صورتحال انتہائی تسلی بخش ہے رواں سال 2017 میں اب تک پولیو کے صرف 4 کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ گذشتہ سال اس عرصے میں پولیو سے متاثرہ کیسز کی تعداد 14 ریکارڈ کی گئی تھی۔ سب سے زیادہ نمایاں کامیابی کراچی اور خیبر پختونخواہ کے صدر شہر پشاور میں دیکھنے میں آئی ہے جہاں جنوری اور فروری 2016 سے ابھی تک پولیو کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا۔ جبکہ کوئٹہ بلاک کے علاقے قلعہ عبداللہ سے رواں سال 2017 کے اوائل میں پولیو کا ایک کیس سامنے آ چکا ہے۔

مزید تفصیلات کے لیے رابطہ کیجئیے: ساجد حسین شاہ، پبلک ریلیشن آفیسر (PRO) وفاقی وزارت برائے امورِ صحت

03006305306
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.