پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں: انٹرنیشنل مانیٹرنگ بورڈ

پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں: انٹرنیشنل مانیٹرنگ بورڈ

Share

اسلام آباد: پولیو تدارک کے عالمی پروگرام سے منسلک انٹرنیشنل مانیٹرنگ بورڈ (IMB) نے پولیو کے موضی مرض کے خاتمے کےلیے پاکستان کی جاری جدوجہد کو سراہتے ہوئے اسے مستقبل کے لیے خوش آئند قرار دیا ہے۔ پولیو کے بین الاقوامی اعلیٰ شہرت کے حامل ماہرین پر مشتمل مذکورہ بورڈ کا اجلاس منگل کے روز لندن میں واقع کالج آف فزیشنز میں منعقد ہوا جس میں پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان میں جاری پروگرام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مذکورہ بورڈ پولیو کے حوالے سے دنیا کے بہترین ماہرین ِصحت پر مشتمل ہے۔ وزیر مملکت برائے صحت سائرہ افضل تارڑ کی سربراہی میں پاکستان سے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے اجلاس میں شرکت کی۔ وفد میں وزیر اعظم پاکستان کی ترجمان برائے پولیو تدارک پروگرام سینیٹر عائشہ فاروق کے علاوہ نیشنل کوارڈینیٹر ڈاکٹر رانا صفدر، بلوچستان کے چیف سیکرٹری، پنجاب، سندھ اور صوبہ خیبر پختونخواہ سے صوبائی سیکرٹریز برائے امور صحت اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری بھی وفد میں وزیر مملکت کے ہمراہ تھے۔ پولیو کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان کے سیاسی رہنمائوں اور انتظامیہ کی پرعزم وابستگی اور دلچسپی کو سراہتے ہوئے بورڈ نے اس موضی وائرس کے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کے عمل کو محدود کیے جانے کے حوالے سے تمام پہلوئوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ وائرس کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کی کم از کم شرح ہی ایک ایسا منفرد موقع فراہم کرتی ہےجس سے اس موضی مرض سے پوری دنیا کو ہمیشہ کے لیے نجات دلائی جا سکتی ہے۔ اجلاس میں پولیو سے متاثرہ ممالک پاکستان، افغانستان اور نائجیریا کی موجودہ صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ علاوہ ازیں بورڈ نے 25000 سے زائد صف اول کے پولیو ورکرز پر مشتمل پُرعزم افرادی قوت، قومی اور علاقائی سطح پر عوام، تخلیقی صلاحیت کی حامل انتظامیہ کی محنت کے نتیجے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی حوالے سے موجودہ پیش رفت کو سراہتے ہوئے اسے خوش آئند قرار دیا۔ انٹرنیشنل مانیٹرنگ بورڈ اجلاسوں میں جاری بحث اس ہفتے کے آخر میں نمٹاتے ہوئے مئی میں اپنی سفارشات جاری کرے گا۔انٹرنیشنل مانیٹرنگ بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے امور صحت سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے پولیو کے خاتمے کو شعبہ صحت میں ترجیحات کی فہرست میں سب سے اوپر رکھا ہے اور اس مشن کو نیشنل ہیلتھ وژن 2025 اور مستحکم ترقیاتی اہداف کے ساتھ منسلک کر دیا ہے تا کہ ترجیحی بنیادوں پر تمام کاوشوں اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اس موذی مرض سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو ہمیشہ کے لیے نجات دلائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جاری اس پروگرام میں تمام تر توجہ پولیو کے خاتمے کے لیے ترتیب دیے گئے نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کرنے پر مرکوز کی گئی ہے۔ مزید براں ترتیب دیے گئے منصوبے کو کامیاب بنانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مثبت نتائج اور اہداف کے حصول کے لیے بہتر کارکردگی کی فضا قائم کی گئی ہے تاکہ مطلوبہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ وزیر مملکت کا کہنا تھا، "ہماری مشترکہ جدوجہد کا بنیادی مقصد اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ پروگرام کی بنیادوں کو مظبوط ڈھانچے پر تعمیر کیا جائے جیسا کہ بہترین تربیت یافتہ خواتین پولیو ویکسینیٹرز کا ان کے مقامی اور ہمسایہ علاقوں سے انتخاب، علاوہ ازیں ایسی خواتین ویکسینیٹرز جو ماتحت عملے کی بہترین رہنمائی کر سکیں؛ تمام سطحوں پر ایک اچھی منصوبہ بندی کے اطلاق کو یقینی بنانا جبکہ تشویشناک اور غیر یقینی صورتحال سے با طریق احسن نبردآزما ہونا اس پروگرام کے بنیادی ستون قرار دیے گئے ہیں"۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سال 2016ء میں صرف 20 پولیو کے کیسز سامنے آئے جو کہ ملکی تاریخ میں پولیو کیسز کی سب سے کم تعداد ہے۔ سائرہ افضل تارڑ کا کہنا تھا کہ وہ مذکورہ پیش رفت کو مستحکم بنانے میں کوشاں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سال 2017ء کے پہلے چار مہینوں میں پولیو کے صرف دو کیس رپورٹ ہوئے جبکہ گذشتہ سال اسی عرصے کے دوران پولیو کے رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 11 تھی۔ مزید براں، ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ ہونے والے آخری کیسز کراچی اور خیبر پختونخواہ کے ان علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں ممکنہ طور پر پولیو وائرس کی آمجگاہ قرار دیا گیا تھا۔ وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ چوتھے درجے میں شامل کوہستان اور جنوبی سندھ کے وہ اضلاع جہاں یہ وباء پھوٹی تھی ان علاقوں میں ماہ ستمبر سے موثر انداز میں کام جاری ہے تاکہ ان علاقوں سے پولیو وائرس کی ممکنہ موجودگی کے خاتمے  اوروائرس کو دوسرے علاقوں میں منتقل ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے۔پاکستان میں پولیو کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے دستاویزی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم کی ترجمان برائے پولیو تدارک پروگرام، سینیٹر عائشہ رضا فاروق کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پولیو کی وبائیت کی موجودہ صورتحال جتنی بہترین آج ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ تاہم ترجمان سینیٹر عائشہ کا کہنا تھا کہ پولیو وائرس کو پھیلنے سے روکنا اور بالآخر ملک سے اس مرض کا مکمل خاتمہ ہی ہمارا آخری ہدف ہے۔ اور اس ہدف کے حصول کی نوید اسی وقت سنائی جا سکتی ہے جب پولیو کیسز کی تعداد کا ہندسہ صفر پر مستقل طور پر ٹھہر جائے۔ پاکستان وفد میں شامل پولیو پروگرام سے وابستہ ٹیم نے اب تک کی ان تمام سرگرمیوں کی تفصیلات کا تبادلہ کیا جن کا انعقاد انتہائی تشویش کے علاقوں میں اس وقت کیا گیا جب پولیو وائرس کی دوسرے علاقوں میں راہ فرار اختیار کرنے کے مواقعوں کو محدود کرتے ہوئے نگرانی کے عمل کے ساتھ ساتھ انتظامی امور کی انجام دہی میں بھی خاصی بہتری لائی گئی۔ بورڈ اجلاس میں پیش کیے جانے والے حالیہ سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتہائی تشویشناک علاقوں میں اب بچوں کی قوت مدافعت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان کے سرحدی علاقوں جیسے افغانستان سے بین الملکی نقل حمل کے نتیجے میں پولیو وائرس کی منتقلی سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے لیے ترتیب دی گئی حکمت عملی کی تفصیلات بھی اجلاس میں پیش کی گئیں۔ دریں اثنا، آئی ایم بی کے اجلاس کو پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی ٹیم کے لیے انتہائی سُود مند قرار دیتے ہوئے نیشنل کوارڈینیٹر ڈاکٹر صفدر کا کہنا تھا، "اب پولیو وائرس اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ہمیں صرف اپنی ساری توجہ اور جدوجہد اس نقطے پر مرکوز رکھنی ہے کہ پولیو وائرس کے مظبوط قلعے کی گرتی ہوئی دیواروں کو ایک آخری دھکے کی ضرورت ہے جس کی مدد سے عالمی سطح پر صحت کے شعبے میں ایک لازوال اور نمایاں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ گذشتہ سال بھی انٹرنیشنل مانیٹرنگ بورڈ پولیو کے خاتمے کے لیے جاری پروگرام میں پاکستان کی نمایاں کارکردگی کا اعتراف کیا تھا۔ لندن میں 2-3 مئی کو ہونے والے اجلاس سے قبل بھی پولیو کے خاتمے کے لیے پروگرام GPEI بھی آئی ایم بی کے نام ایک خط کے ذریعے پاکستان کی پولیو کے خاتمے کے لیے جاری کاوشوں کا اعتراف کر چکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے پولیو تدارک پروگرام کے ڈائریکٹر اور  GPEI اسٹریٹیجی کمیٹی کے سربراہ مچل زافران لکھتی ہیں، "دونوں ممالک کی پولیو وائرس کی بین العلاقائی منتقلی کو روکنے اور پولیو وائرس کی موجودگی کی نشاندہی کے حوالے سے نمایاں کارکردگی کی وجہ سے ان دونوں ممالک میں پولیو کیسز کی شرح میں انتہائی کمی واقع ہوئی ہے۔