تکنیکی مشاورتی گروپ نے پاکستان کی پولیو کے خاتمے کے لیے جاری جدوجہد کو حوصلہ افزاء قرار دے دیا

تکنیکی مشاورتی گروپ نے پاکستان کی پولیو کے خاتمے کے لیے جاری جدوجہد کو حوصلہ افزاء قرار دے دیا

Share

اسلام آباد، 1اپریل2017 – تکنیکی مشاورتی گروپ کے 30 سے 31 مارچ تک اسلام آباد میں منعقدہ دورروزہ اجلاس میں شرکاء نے پولیو کے تدارک کے لیے جاری پروگرام میں پچھلے نو ماہ کے دوران حکومت پاکستان کی کوششوں کو حوصلہ افزاء قرار دیتے ہوئے اسے مثبت پیش رفت سے تعبیر کیا ہے۔ TAG اجلاس کا بنیادی مقصد پولیو کے تدارک کے لیے جاری پروگرام میں پیش رفت کے ساتھ ساتھ نئے مواقعوں کی تلاش اور پولیو کے موذی وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جاری جدوجہد کی راہ میں حائل بقایا رہ جانے والی رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیےمجوزہ حکمت عملی کا جائزہ لینا تھا-

TAGکے گذشتہ اجلاس کے بعد سے، پاکستان میں پولیو کے تدارک کے پروگرام PEI نے اس موذی وائرس کے خاتمے کے حوالے سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کامیابیوں کے حصول میں حکومت پاکستان کے عزم و تعاون، پروگرام کے استحکام کو برقرار رکھنے اور کمیونٹی کی جانب سے صحت کے حوالے سے اس مثبت اقدام کو خوش آمدید کہنے جیسے عوامل نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جس کی وجہ سے پولیو وائرس کی وجہ سے بچوں میں جسمانی معذوری کے کیسز میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ تحقیقی اعدادو شمار کے مطابق سال 2015ء میں پولیو کی وجہ سے بچوں میں جسمانی معذوری کے 54، سال 2016ء میں 20 جبکہ رواں سال 2017ء میں پولیو کی وجہ بچوں میں جسمانی معذوری کے اب تک صرف 2 کیسز سامنے آئے ہیں جو انتہائی خوش آئند اور مثبت پیش رفت ہے۔ پولیو کے تدارک کے حوالے سے عملی اقدامات اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی کامیابیاں، علاوہ ازیں پولیو کے تدارک کے لیے جاری پروگرام کی مثبت سمت میں حالیہ رفتار جتنی حوصلہ افزاء آج ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی تاہم اس کے باوجود پولیو کیسز کی تعداد کو صفر پر لانا ہی پولیو پروگرام کا اصل ہدف ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے تکنیکی مشاورتی گروپ (TAG) نے ملک بھر میں  پولیو پروگرام کی کارکردگی کے اعلیٰ معیار کو قائم رکھنے پر زور دیا ہے۔ علاوہ ازیں  TAG اجلاس میں اس موذی وائرس سے متاثرہ دو ممالک پر مشتمل مشترکہ بلاک یعنی افغانستان اور پاکستان کے مابین پولیو کے تدارک کے حوالے سے باہمی تعاون کے فروغ،  پولیو کی ممکنہ موجودگی کے لیے تشویشناک قرار دیے گئے علاقوں میں پولیو کے قطرے اور ٹیکوں سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں کمی لانے اور مذکورہ ممالک میں بین العلاقائی نقل و حمل  کے دوران بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے عمل کو یقینی بنانے   کےاقدامات پر  زور دیا۔تکنیکی مشاورتی گروپ (TAG) کے سربراہ جین-مارک اولیوکا کہنا تھا: "جون 2016ء میں منعقدہ TAG اجلاس کے بعد سے پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد کو صفر کی حد تک لانے میں پاکستان کی جانب سے حالیہ پیش رفت انتہائی  حوصلہ افزاء ہے۔ ہم یہاں تسلیم کرنا پڑے گاکہ پولیو کے تدارک کے حوالے سے جاری پروگرام میں حالیہ مثبت پیش رفت  ، حکومت پاکستان  کے ہر سطح پر تعاون اور مظبوط عزم کے بغیر کسی بھی طرح ممکن نہیں تھی۔ مجھے مکمل اعتماد ہے کہ ہم اپنے مشن کی تکمیل کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں ، اسکے لیے ہم سب کو گذشتہ چند ماہ کے دوران ہونے والی حوصلہ افزاء کوششوں کو آئندہ مستقبل میں بھی پورے عزم اور لگن کے ساتھ اسی طرح جاری رکھنا ہو گا تاکہ مطلوبہ اہداف کو حاصل کرتے ہوئے دنیا کو پولیو کے موذی مرض سے محفوظ بنایا جا سکے"۔ حکومت پاکستان اور پولیو کے تدارک کے پروگرام (PEI) سے وابستہ کلیدی شراکتی اداروں کے اعلیٰ حکام بشمول وفاقی وزیر برائے امور صحت (NHSRC)، محترمہ سائرہ افضل تارڑ، وفاقی سیکرٹری برائے امور صحت ایوب شیخ، عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ریجنل ڈائریکٹر برائے بحیرہ روم کے علاقہ جات، ڈاکٹر محمود فکری اور یونیسیف (UNICEF) جنوبی ایشیا کے لیے ریجنل ڈائریکٹر ، مس جین گوف نے بھی اسلام آباد میں تکنیکی مشاورتی گروپ (TAG) کے دو روزہ اجلاس کے اختتامی سیشن میں شرکت کی۔ علاوہ ازیں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فائونڈیشن، روٹری انٹرنیشنل ، بیماریوں کی روک تھام کے حوالے سے امریکی ادارہ صحت اور مالی امداد کے دیگر اداروں کے نمائندگان بھی اجلاس میں موجود تھے۔پولیو کے تدارک کے پروگرام پر وزیراعظم کی ترجمان، سینیٹر عائشہ رضا فاروق کا کہنا تھا: "پولیو پروگرام کے حوالے سے موجودہ پیش رفت پر مجھے فخر محسوس ہو رہا ہے۔ پولیو پروگرام مثبت راہ پر گامزن ہے اور اس حوالے سے ہم ہر سطح پر قابل تحسین پیش رفت دیکھ رہے ہیں۔ تکنیکی مشاورتی گروپ (TAG) کی جانب سے ہمارے کام کی حوصلہ افزائی اس بات کی یقین دہانی ہے کہ ہمارا پروگرام پولیو کے تدارک کے ہدف کی جانب مثبت راہ پر گامزن ہے اور مشترکہ جدوجہد سے ہم جلد ملک کو پولیو کے موضی مرض سے ہمیشہ کے لیے نجات دلانے میں کامیابی حاصل کر لیں گے"۔ پولیو کے تدارک کے لیے قائم ادارہ، نیشنل ایمرجنسی اپریشن سینٹر (NEOC) کے کوارڈینیٹر، ڈاکٹر رانا محمد صفدر کا کہنا تھا کہ " پاکستان میں جاری پولیو کے تدارک کے پروگرام میں موجودہ پیش رفت پر تکنیکی مشاورتی گروپ (TAG) کی جانب سے حوصلہ افزائی اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیو کے خاتمے کے حوالے سے ترتیب دی گئی ہماری حکمت عملی انتہائی موثر رہی ہے"۔ صف اول کے کارکن یعنی پاکستان کے صحت محافظ کی خدمات کو سراہتے ہوئے ڈاکٹر صفدر نے اس بات پر زور دیا کہ "پاکستان سے پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت اور دیگر شراکتی نمائندوں بالخصوص والدین کے مابین باہمی تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے"۔بحیرہ روم کے علاقوں کے لیے تعینات، عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ریجنل ڈائریکٹر، ڈاکٹر محمود فکری نے حکومت پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ "پولیو کے مکمل خاتمے تک عالمی ادارہ صحت پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی فراہمی کو یقینی بنانے میں کوئی کسَر نہیں چھوڑے گا تاکہ اس انتھک جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے دنیا کو پولیو کے موذی وائرس سے ہمیشہ کے لیے نجات دلائی جا سکے۔ اس ضمن میں پاکستان کی جانب سے موجودہ پیش رفت انتہائی اطمینان بخش ہے اور مجھے یقین ہے کہ ہم جلد دنیا کو پولیو سے ہمیشہ کے لیے نجات دلانے میں کامیابی حاصل کر لیں گے"۔حکومت پاکستان کی پولیو پروگرام میں دلچسپی اور ملکی قیادت کے عزم کو تکنیکی مشاورتی گروپ (TAG) کی جانب سے خراج تحسین پیش کیے جانے پر، یونیسیف (UNICEF) جنوبی ایشیا کی ریجنل ڈائریکٹر، مس جین گوف کا کہنا تھا: " پاکستان پولیو کے مرض سے متاثرہ بچوں کی تعداد کو صفر کے ہندسے پر لانے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے اور مجھے یقین ہے کہ جلد اس ہدف کو حاصل کر لیا جائے گا"۔ اجلاس کو سمیٹتے ہوئے، وفاقی سیکرٹری برائے امور صحت، ایوب شیخ نے TAG کے اراکین اور شراکتی اداروں کے نمائندگان کا شکریہ ادا کیا، "ہم TAG اراکین اور اجلاس کے دیگر شرکاء کا پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے کے ہدف کے حصول کے لیے صلاحیتوں اور اس حوالے سے علمی معلومات کے تبادلے کے لیے انتہائی مشکور ہیں۔ ہم  اس بات کا اعادہ کرتے ہیں  کہ TAGکی سفارشات پر  عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے اور صف اول کے پولیو ورکرز پرمشتمل عزم ٹیم اور شراکتی اداروں کی مدد سے اس موذی وائرس کی ممکنہ آماجگاہوں کی دریافت اور پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے جدوجہد کو موثر انداز میں جاری رکھیں گے"۔

نوٹ برائے ایڈیٹر:

تکنیکی مشاورتی گروپ (TAG) کا قیام مخصوص ممالک میں پولیو کے تدارک کے لیے پیش رفت اور TAG کی جانب سے گذشتہ سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لینے، پولیو کے تدارک کے حوالے سے ترتیب دی گئی سرگرمیوں کے انعقاد اور پروگرام کے اہداف کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے نمٹنے پرمشاورت کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔ TAG اجلاسوں میں مخصوص ممالک سے تکنیکی مشاورتی گروپ کے اراکین، قومی سطح پر اعلیٰ حکام، شراکتی اداروں کے نمائندگان اور بین الاقوامی اور خطے کی سطح پر ماہرین و اعلیٰ حکام برائے امور صحت شرکت کرتے ہیں۔تکنیکی مشاورتی گروپ (TAG) کے سال میں دو اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں تا کہ موجودہ پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے ماہرین کی رائے کی روشنی میں مطلوبہ اہداف کے حصول کے عمل کو ممکن بنایا جاسکے۔ اجلاس میں پولیو کے تدارک کے لیے پروگرام سے وابستہ ماہرین جن میں ناصرف اعلیٰ حکومتی حکام بلکہ شراکتی اداروں جیسے عالمی ادارہ صحت (WHO)، یونیسیف (UNICEF)، دنیا بھرسے GPEI کے اعلیٰ حکام، روٹری انٹرنیشنل، بل اینڈ میلنڈا گیٹس فائونڈیشن، بیماریوں کی روک تھام کے حوالے سے امریکی ادارہ برائے صحت اور مالی امداد کے اداروں کے نمائندگان کوشرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔

 

مزید معلومات کے لیے رابطہ کیجیے:

ساجد حسین شاہ، پبلک ریلیشنز آفیسر، وفاقی وزارت برائے امور صحت (NHRS&C)

03006305306, This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.