پولیو کے تدارک کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے وزیر صحت کا نگرانی اور احتساب کے نظام میں مزید بہتری لانےکی ہدایت

پولیو کے تدارک کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے وزیر صحت کا نگرانی اور احتساب کے نظام میں مزید بہتری لانےکی ہدایت

Share

پولیو ایمرجنسی پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر برائے امور صحت ،  سائرہ افضل تارڑ نے متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ پولیو تدارک کے پروگرام کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر قابو پانے کے لیے نگرانی اور کڑے احتساب کے نظام کو یقینی بنائیں۔

وزیر صحت کا کہنا تھا کہ"کامیابی اور طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے ہمیں نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنانے کے ساتھ ساتھ پولیو کے تدارک کے پروگرام سے منسلک تمام افراد کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے انہیں احتساب کے دھارے میں لانا چاہیے"۔

وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان پولیو کے خاتمے کا ایک طویل سفر طے کر چکا ہے۔ موجودہ صورتحال میں ہم نے اس ضمن میں گراں قدر کامیابیاں حاصل کی ہیں جنھیں اقوام عالم میں خوب سراہا جا رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اللہ کے فضل و کرم سے موجودہ حکومت نے تمام درپیش چیلنجز کا بڑی ہمت، حوصلے اور سیاسی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔

وفاقی وزیر نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پولیو کیسز میں ناصرف نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے بلکہ ماحولیاتی نمونہ جات کی تشخیص کی رپورٹ میں منفی رحجان کا تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سال نمونہ جات میں مثبت رحجان کی شرح 38فیصد سے کم ہو کر 12فیصد پر پہنچ گئی ہے جو کہ انتہائی خوش آئند ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ "پولیو ٹیم کو تحفظ کو یقینی بنانے اور ان کی بچوں تک رسائی میں پاک فوج کا کردار قابل تحسین ہے اور پوری قوم اس فرض شناسی پر پاک فوج کو سلام پیش کرتی ہے"۔

انکا مزید کہنا تھا کہ رپورٹ کردہ علاقوں میں پولیو وائرس کو محدود رکھنا ہماری ترجیح ہونی چاہیے۔ آخر میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وہ ذاتی طور پر بذات خود صوبوں کا دورہ کریں گی اور صوبائی قیادت سےملاقاتیں کر کے ان علاقوں میں درپیش مسائل کو حل کرانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گی۔

وفاقی حکومت کی جانب سے صوبوں اورپولیو سے متاثرہ علاقوں میں پر عزم تعاون کا اعادہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے امور صحت نے ہدایات جاری کیں کہ پولیو ماہرین پر مشتمل ریپڈ رسپانس ٹیم کو ان تمام متاثرہ علاقوں میں فوری راوانہ کیا جائے جہاں کہیں اس ضمن میں مسائل درپیش ہیں۔

سائرہ افضل تارڑ نے ہدایات جاری کیں کہ پولیو تدارک کے پروگرام کے ثمرات کے حصول اور حکمت عملی میں مزید بہتری لانے کے لیے جدوجہد کو دوگنی رفتار سے مزید تیز کیا جائےتاکہ بچوں کی قوت مدافعت میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کیا جا سکے اور پولیو مہم کو مستحکم انداز میں جاری رکھا جا سکے۔

اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیر اعظم کی نمائندہ خصوصی برائے پولیو تدارک پروگرام، سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے بھی شرکت کی جنھوں نے ملک بھرمیں پولیو وائرس کے خاتمے اور اسکی روک تھام کے لیے جاری کوششوں کے اہم پہلوئوں کو اجاگر کیا۔

وزارت امور صحت کے اعلیٰ حکام، وفاقی سیکرٹری محمد ایوب شیخ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ، ڈاکٹر اسد حفیظ اور پاک فوج کے نمائندہ افسر نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔ علاوہ ازیں بین الاقوامی اداروں عالمی ادارہ صحت (WHO) اور یونیسیف (UNICEF) کے اعلیٰ حکام اور نمائندے بھی اجلاس میں شریک تھے۔

قبل ازیں، پولیو ایمرجنسی کے نیشنل کوارڈینیٹر، ڈاکٹر محمد صفدر نے پولیو کے تدارک کے پروگرام کی کارکردگی اور تازہ ترین صورتحال پر اجلاس کے شرکاء کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔

 

------