پاکستان میں پولیو کے خاتمے میں حالیہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے بین الاقوامی مالی امداد کے اداروں کی جانب سے مستقبل میں تعاون کی فراہمی جاری رکھنے کی یقین دہانی

پاکستان میں پولیو کے خاتمے میں حالیہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے بین الاقوامی مالی امداد کے اداروں کی جانب سے مستقبل میں تعاون کی فراہمی جاری رکھنے کی یقین دہانی

Share

 

اسلام آباد 9 فروری 2017: مالی امداد کے بین الاقوامی اداروں نے پاکستان کی پولیو کے تدارک کے حوالے سے اب تک کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پولیو کو ماضی کی داستان بنانے کے لیے تمام ادارے اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔

رواں سال کے دوران پاکستان میں گزشتہ 15 سالوں کی نسبت ،پولیو کیسز کی تعداد انتہائی کم ترین سطح پر مشاہدہ میں آئی ہے اور سال 2017ء میں پولیو کے موذی وائرس کو مزید پھلنے پھولنے سے روکنے کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ صفِ اول میں کردار ادا کرنے والے ہمارے پولیو ورکرزمکمل طور پر پُر عزم ہیں ، تمام تر دستیاب وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں جبکہ علاقہ مکینوں میں رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات فراہم کرنے والے افراد نے پولیو کے پھیلائو کی روک تھام کے حوالے سے حالیہ کوششوں میں مزید تیزی لاتے ہوئے اس موذی وائرس کے پھیلائو کی روک تھام کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں،" ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم کی نمائندہ خصوصی برائے پولیو تدارک پروگرام، سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے نیشنل ایمرجنسی اپریشنز سینٹر میں منعقدہ مالی امداد کے بین الاقوامی اداروں کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے افتتاحی خطاب کے دوران کیا۔

ڈاکٹر رانا صفدر، نیشنل کوارڈینیٹر، ایمرجنسی اپریشنز سینٹر نے مالی امداد کے شراکتی اور مستقبل میں امداد کی ممکنہ فراہمی کے اداروں اور دلچسپی کے حامل ممالک کے نمائندوں کو پولیو تدارک کے پروگرام کی حالیہ کارکردگی، نیشل ایمرجنسی ایکشن پلان 2016-17 کے نفاذ اور پولیو کے موذی وائرس کے عدم پھیلائو بذریعہ نگرانی کے مربوط نظام، انتظامی امور اور احتسابی عمل کے حوالے سے آگاہ کیا۔

مالی امداد کے جن بین الاقوامی اداروں اور مملک کے نمائندگان نے اجلاس میں شرکت کی ان میں جاپان، کینیڈا، جرمنی، اسٹریلیا، اٹلی، اسلامی ترقیاتی بینک (IDB)، کے ایف ڈبلیو ترقیاتی بینک (KfW. D. B) ، جائیکا (JICA) ، ڈی ایف آئی ڈی (DFID) ، یو ایس ایڈ (USAID) ، روٹری انٹرنیشنل، عالمی ادارہ صحت (WHO) ، یونیسیف (UNICEF) ، سی ڈی سی (CDC) اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فائونڈیشن شامل تھے۔

نمائندگان

 

انجیلا کیرنے (Angela Kearney)، پاکستان میں یونیسیف (UNICEF) کی نمائندہ سربراہ نے اتنے بڑے پروگرام کو چلانے کے لیے موجودہ قیادت کی پروگرام میں دلچسپی، شفافیت اور ایمانداری کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے حالیہ کاکردگی کو خوب سراہا۔ ان کا کہنا تھا، "ہم ہر سطح پر پولیو تدارک پروگرام میں اپنا تعاون جاری رکھیں گے"۔

 

ڈاکٹر آسائی ارداکنی، عالمی ادارہ صحت (WHO) کی قائم مقام نمائندہ نے قومی قیادت کے نظریہ اور کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان میں جاری پولیو پروگرام مجموعی طور پر صحت کے نظام میں مزید بہتری لانے کے لیے باقاعدہ رہنما اصول کے طور پر اپنا کردار ادا کرے گا۔

 

قومی سطح پر روٹری انٹرنیشنل پاکستان کے سربراہ عزیز میمن کا کہنا تھا کہ "روٹری کو عوامی مفاد عامہ کا فعال حصہ بننے پر فخر ہے اور روٹری انٹرنیشنل پولیو تدارک پروگرام میں بذریعہ مالی و رفاعی امداد اور آنے والے سالوں میں انسانی وسائل کی فراہمی میں اپنا تعاون جاری رکھے گا"۔

 

مالی امداد کے جاپانی ادارے جائیکا (JICA) کے نمائندہ  یوہی ایشی گروکا کہنا تھا کہ جاپان کی حکومت اور امدادی ادارے دونوں پولیو تدارک پروگرام کا حصہ بننے پر انتہائی خوش اور اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے پر مکمل طور پر پُر عزم ہیں۔

 

پاکستان میں اسلامی ترقیاتی بینک (IDB) کے نمائندہ انعام اللہ خان پاکستان میں پولیو تدارک کے حوالے سے سیاسی قیادت کا عزم اور حکومت کی جانب سے پولیو تدارک کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے حوالے سے اقدامات کو خوب سراہا۔

 

پاکستان میں اسلامی ترقیاتی بینک (IDB) کے نمائندہ، انعام اللہ خان، کینیڈین ہائی کمیشن کے فرسٹ سیکرٹری ، کِرل آئوردانوو، CDC کے نمائندہ سید منصور سعید، پراجیکٹ کوارڈینیٹر KfW جرمنی ڈاکٹر معصومہ زیدی پروگرام مینیجر اسڑیلین ہائی کمیش، حمیرا ابراہیم، ریزیڈنٹ ایڈوائزر FELTP، ڈاکٹر رانا جواد، اکنامک اسپیشلسٹ US ایمبیسی، گُل افشاں، DFID میں صحت و خوراک کی ٹیم کے سربراہ، ڈاکٹر کرس اتھائدے نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

مزید معلومات کے لیے، رابطہ کیجئیے:

ساجد حسین شاہ، پبلک ریلیشن آفیسر، منسٹری آف نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کوارڈینیشن

03006305306

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.