خیبر ایجنسی میں بچوں کی موت انسداد پولیو ویکسین کی وجہ سے نہیں: گورنرخیبرپختونخوا

خیبر ایجنسی میں بچوں کی موت انسداد پولیو ویکسین کی وجہ سے نہیں: گورنرخیبرپختونخوا

Share

 

پشاور : گورنرخیبرپختونخوا انجینیراقبال ظفر جھگرا نےکہا کے فرانزک ٹیسٹ سے ثابت ہوتا ہے کے خیبر ایجنسی میں کوئی بچہ بھی انسداد پولیو ویکسین کی وجہ سے فوت نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا ہم فاٹا میں پولیو خاتمے کے بہت نزدیک ہیں اوراس مرحلہ پر کسسی قسم کی سستی برداشت نہیں کر سکتے۔

 

یہ بات انہوں نے خیبر ایجنسی بارہ تحصیل کے شلوبرعلاقہ میں ویکسنیشن سے جوڑی گئی اموات کی تحقیقات کرنے والی تحقیقاتی کمیٹی سے ملاقات کے دوران کہی ۔

تحقیقاتی کمیٹی نے اس موقع پر گورنرخیبرپختونخوا کو تحقیقات کے طریقہ کاراور اب تک اخز کیے گئے نتائج سے آگاہ کیا ۔ کمیٹی نے گورنرخیبرپختونخوا کو بتایا کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (ایچ ایم سی) لائے گئے سات بچوں کے بھیجے گئےخون کے لیبارٹری ٹیسٹ بلکل صاف ہیں ۔  

 

گورنرخیبرپختونخوا انجینیراقبال ظفر جھگرا نےکہا ویکسین سے بچوں کی اموات کا کوئی ثبوت نہیں ملا اس لیے فاٹا کی عوام بے بنیاد پراپگنڈوں پر یقین نہ کرے۔

 

گورنرخیبرپختونخوا نے کمیٹی کی کاردکردگی پر اطمنان کا اظہار کیا اورتحقیقاتی کمیٹی کو جلد از جلد رپورٹ تیار کرنے اورعوام کے سامنے لانے کی ہدایات جاری کیں۔

 

انہوں نے کہا کے اس سال فاٹا میں انسداد پولیو مہموں کے دوران بچوں کو پولیو قطرے پلوانے کی شرح 99 فیصد رہی جبکہ انکاری والدین کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہی ۔

 

یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کے فاٹا کی عوام پولیو کے خاتمےکے لیے پر عزم ہے۔ 

انہوں نے  فوجی اور نیم فوجی دستوں اور فاٹا کے صحت محافضین (پولیو ٹیموں) کی داد رسائی کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی اداروں کی مدد سے پولیو ٹیموں نے بہت مشکل حالات اور خطوں میں ہر بچے تک رسائی اور پولیو قطرے پلوانے کو یقینی بنایا۔ پولیو ٹیموں نے ہر ماہ فاٹا میں دس لاکھ سے ذاید بچوں کو پولیو قطرے پلوائے اور بچوں کو معذور ہونے سے محفوظ رکھا۔