میں بھی ایک صحت محافظ ہوں

میں بھی ایک صحت محافظ ہوں

Share

ڈاکٹر رانا محمد صفدر

تین سال قبل جب ہم پولیو کا عالمی دن منا رہے تھے ، اس وقت سال 2014ء میں تقریباَ 306 کے قریب ہمارے ملک کے بچے پولیو وائرس کے حملے کا شکارہو چکے تھے ۔ آج جب ہم 2017ء میں پولیو کا عالمی دن منا رہے ہیں تو پولیو وائرس کے حملے کے باعث جسمانی معذوری کا شکار ہونے والے صرف 5 بچوں کے کیسز ہمارے سامنے آئے ہیں۔ ہمیں اپنی اس بے مثال اور تاریخی کامیابی پر فخر ہے۔

ان متاثرکُن نتائج کے باوجود، پاکستان دنیا کے ان تین ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں یہ موذی مرض آج بھی بچوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ بطور ایک قوم ہمیں اس موذی مرض سے مستقل نجات حاصل کرنا ہو گی۔ ہم سب کو یکجا ہو کر اس موذی مرض کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے، اس عزم کے ساتھ کہ پولیو کا خاتمہ ہی ہمارا مقصد ہے! آئندہ اگست میں پاکستان 71 برس کا ہو جائیگا اور بحیثیت قوم ہم اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک خصوصی تحفہ پیش کریں گے: پولیو سے پاک پاکستان! یہ ہمارے ملک کا مقصد ہونا چاہئیے اور پولیو کے عالمی دن کے موقع پر ہر شہری سے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ اس عزم کا اعادہ کرے کہ پاکستان میں کوئی ایک بھی بچہ آئندہ اس بیماری کا دوبارہ شکار نہیں ہو گا۔

ہماری حالیہ اور بے مثال کامیابیاں ان لاکھوں باہمت فرنٹ لائن ورکرز کی محنت اور جدوجہد کا نتیجہ ہیں جنھوں نے ہمارے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے دو حفاظتی قطرے پلانے کے عمل کو یقینی بنایا۔ میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں! میں پولیو پروگرام سے وابستہ تمام مینیجرز اور انتظامیہ کے حکام کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتاہوں جنھوں نے ویکسینیشن ٹیم سے بطریق احسن خدمات کے حصول کے لیے منصوبہ بندی، نگرانی اور عملی اقدامات کے لیے ایک مربوط نظام وضع کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کے- ٹو کی پہاڑیوں سے لیکر کراچی تک ہر گھر اور کمیونٹی میں موجود 5 سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے دو حفاظتی قطرے پلا ئے جا سکیں۔ ہم یہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ان تمام اہلکاروں کے بھی شکرگزار ہیں اور اس نیک مقصد میں ویکسینیشن ٹیموں کے ہمراہ فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ان تمام اہلکاروں کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جو ہر مشکل گھڑی میں ہمیشہ ہمارے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے۔

مجھے ان تمام کمیونٹی اور گھرانوں پر فخر ہے جنھوں نے کبھی بھی صحت محافظ ٹیموں پر اپنے دروازے بند نہیں کیے اور اس امر کو یقینی بنانے میں مکمل تعاون فراہم کیا کہ ان کے ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے دو حفاظتی قطے پلائے جا سکیں۔ یہی واحد طریقہ ہے جس کے تحت ہم مشترکہ جدوجہد کرتے ہوئے پولیو کے اس موذی وائرس کی اپنی سرزمین سے ہمیشہ کے لیے بے دخلی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

ہمارے اعداد و شمار اور تحقیقی مطالعہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ہمارے ملک کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد (یعنی ہر 100 میں سے 95) پولیو کے خلاف جاری ویکسینیشن مہمات کی حمایت کرتی ہے اور گذشتہ سال پولیو مہم کے دوران اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے دو حفاظتی قطرے لازمی پلائے جائیں۔ صرف چند ایک افراد (یعنی 100 میں سے 1) ایسے ہیں جو ابھی بھی شکوک و شبہات اور غلط فہمیوں کا شکار ہیں اور انسانی حقوق کے منافی اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلوانے سے اجتناب کرتے ہیں۔

بچوں کا پولیو کے حفاظتی قطرے پینے سے محروم رہ جانا ہمارے پروگرام کی کارکردگی کی راہ میں دور حاضر کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یوں کہہ لیجئیے کہ ایک بھی بچے تک عدم رسائی پوری قوم کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔ میں انتہائی سنجیدگی کے ساتھ تمام والدین، ماؤں اور بچوں کی نگہداشت پر مامور افراد سے یہ درخواست کرتاہوں کہ جب بھی صحت محافظ آپ کے دروازے پر آئیں تو انہیں ہر بار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلانے کے عمل کو یقینی بنانے میں بھرپور تعاون فراہم کریں۔ ہر سال 20 ہزار سے زائد بچے اس موذی مرض کا شکار ہو جاتے تھے! ہم ایسا نہیں چاہتے! اگر ہم آئندہ دس مہینوں میں مشترکہ جدوجہد کے ذریعے اس موذی مرض سے مکمل نجات حاصل نہیں کرتے تو یہ خطرہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔

ہمیں دیگر جن مشکلات کا ممکنہ طور پر سامنا ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ صوبوں کے مختلف علاقوں سے اکھٹے کیے گئے نکاسی آب کے نمونہ جات کی تشخیص میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان علاقوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کے اثرات آج بھی موجود ہیں جو کہ وہاں مقیم بچوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ ہمیں کراچی اور کوئٹہ کے تمام اضلاع سمیت پشین، قلعہ عبداللہ اور چمن کے اضلاع اور تحصیلوں کے علاوہ جڑواں شہروں راولپنڈی- اسلام آباد پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہم پولیو کے خلاف جاری جنگ کے حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں! ہمیں خیبر پختونخواہ کے شہر پشاور اور ملک کے دوسرے حصوں میں بھی پولیو کے ممکنہ خطرے سے نبردآزما ہونے کے لیے ہر دم تیار رہنے کے حوالے سے خصوصی انتظامات کرنے چاہئیں۔

موثر تحقیقی مطالعے اور تفصیلی منصوبہ بندی کی بنیاد پر بلاشبہ ہم سالانہ بنیادوں پر ترتیب دیے گئے ایمرجنسی ایکشن پلان کے تحت تمام مربوط حکمت عملیوں کے مکمل نفاذ پر کام کر رہے ہیں۔ ہمارا پروگرام پولیو کے موذی وائرس کی بڑی تیزی سے تشخیص کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ہم چھوٹے چھوٹے مسائل سے بطریق احسن نمٹتے ہوئے تمام بچوں تک رسائی کو ممکن بنا رہے ہیں۔ ہم اپنے مائیکرو پلان میں مزید بہتری لا رہے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی ایک بچہ بھی ہماری پولیو ٹیم سے حفاظتی قطرے پینے سے محروم نہ رہ جائے۔ اس کے علاوہ ہم انتہائی تشویش کے تمام علاقوں میں نقل مکانی کرنے والے افراد اور بچوں کا پتہ لگا رہے ہیں جبکہ کمیونٹی کے لوگوں کے تصورات کو سمجھتے ہوئے علاقے کے بااثر افراد کے تعاون سے اس امر کو یقینی بنا رہے ہیں کہ جب بھی پولیو ٹیمیں انکے دروازے پر آئیں وہ ہر بار اپنے 5 سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤکے حفاظتی قطرے لازمی پلوائیں۔

ہمیں ان تمام ڈاکٹروں، مذہبی رہنماؤں، ثقافتی اور قبائلی عمائدین پر فخر ہے جنھوں نے ہمیں اس بات کا یقین دلایا کہ پولیو ویکسین ایک محفوظ طریقہ علاج ہے۔ لہذا وہ والدین اور بچوں کی نگہداشت پر مامور افراد جو اکثر مجھ سے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ بچے کو کتنی مرتبہ پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلوائے جائیں؟ میں ہمیشہ اطمینان کے ساتھ انہیں ایک ہی جواب دیتا ہوں کہ اس کی کوئی حد نہیں ہے کہ آپ کتنی مرتبہ بچے کو حفاظتی قطرے پلا سکتے ہیں۔ جب پولیو کا موذی وائرس آپ کے بچے پر حملہ کرتا ہے، تو وہ نہ صرف مستقل جسمانی معذوری کا شکار ہو جاتا ہے بلکہ بعض کیسز میں یہ موذی مرض بچے کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ پولیو ایک لاعلاج مرض ہے!

جیسا کہ آج پولیو کے عالمی دن کے موقع پر ہم اپنی کامیابیوں کا جشن منا رہے ہیں، وہاں ہمیں خود کو مستقل بنیادوں پر یہ بھی یاد دلاتے رہنا چاہئیے کہ یہ ایک ایسی لڑائی ہے جس میں ہماری مکمل جیت صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ایک بھی بچہ یہاں پولیو کی وجہ سے جسمانی معذوری کا شکار نہ ہو۔ اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم مشترکہ جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے ہر بچے تک رسائی کو یقینی بنائیں۔!

آئندہ چند ماہ کے دوران میری ٹیم ماہانہ بنیادوں پر پولیو مہم کے انعقاد کی منصوبہ بندی کو حتمی شکل دے چکی ہے۔ تاکہ پوری طاقت کے ساتھ ایک آخری دھکا لگاتے ہوئے پولیو کے اس موذی وائرس کو ہمیشہ کے لیے اس ملک سے ختم کر دیا جائے۔ گذشتہ چند دہائیوں کے دوران ہمیں ایک بہترین موقع میسر آیا ہے اور ہمیں اسے سنجیدگی سے مثبت انداز میں لینا ہوگا۔ ہمیں یکجا ہوکر فوری طور پر اس پر عملدرآمد کرنا چاہئیے!!

خواتین و حضرات، یہ ہمارے بچوں اور ہمارے بچوں کے بچوں کی تحفظ کی مہم ہے۔ آپ جب بھی صحت محافظ ویکسینیٹرز کو اپنے دروازے کے باہر دیکھیں تو اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلوانے کے لیے خوش دلی سے انہیں اپنا بھرپور تعاون فراہم کریں۔ میں ان تمام ویکسینیٹرز کی شکر گزار ہوں جو ہمارے خوبصورت ملک کو پولیو سے محفوظ بنانے کے لیے بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کے عمل کو یقینی بناتے ہیں۔ میں اس مقدس مقصد کے لیے انتھک جدوجہد پر انہیں پیشگی خراج تحسین پیش کرتی ہوں، بلاشبہ میں بھی ایک صحت محافظ ہوں! !!

 ####

ڈاکٹر رانا محمد صفدر پبلک ہیلتھ کے ماہر ہیں اور اس وقت پاکستان پولیو پروگرام کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سنٹر اسلام آباد میں کوآرڈینیٹر کے فرائض انجام دے رہے ہیں ان سے This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. رابطہ کیا جا سکتا ہے-