صا ئمہ: بہادری کی ایک جیتی جاگتی مثا ل

صا ئمہ: بہادری کی ایک جیتی جاگتی مثا ل

Share

a-pakistani-mother-unstoppable-even-by-polio

 

عزم،ہمت اورحوصلہ کس طرح سےجسمانی کمزوری کومات دے سکتا ہے، صائمہ لیاقت اس کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔ پیدا ئش کےدوسال بعد ہی پولیوجیسےموذی مرض کا شکاربننےوالی صائمہ کوجسمانی معذوری کا سامنا کرنا پڑا اوراسکی دونوں ٹانگیں جزوی طورپرمفلوج ہوکررہ گئی۔ اس کےباوجود اس بہادرلڑکی نےبیماری کواپنی صلاحیتوں کےمقا بلے میں شکست د ینےکی ٹھان لی ۔ ابتدائی تعلیم کےحصول لےلیےاکثرسکول جا تے ہوئےطویل دھول اڑاتی سڑک پرمعذوری اسکا امتحان لیتی۔ مگراس نے اپنے لڑکھڑاتے قدموں اور راوتے کی صعبتوں کو حصول تعلیم میں روکاوٹ نہیں بننےدیا۔ اور پھراسنے وہ دن بھی دیکھا جب وہ اپنے پورے خاندان میں کالج سےاعلیٰ تعلیم حاصل کرنےوالی پہلی خا تون بن گئیں۔ صائمہ کاآبائی ملک 'پاکستان' کرہ ارض پرموجودان تین مما لک میں سے ایک ہے جہاں پولیو جیسا موذی مرض آج بھی بےشماربچوں کی زندگیوں کےلئےخطرے کا باعث بنا ہوا ہے۔ دیگرممالک میں افغانستان اورنا ئیجیریا شامل ہیں۔

پولیوسےمتاثرہ کم سن بچوں کودرپیش جسمانی معذوری اورانکی زندگیوں پر اس کےنتیجےمیں پیدا ہونےوالے تباہ کن اثرات کےبارےمیں صائمہ سے بہتربھلاکون جان سکتا ہے۔ کیونکہ اب اسے پتہ چل چکا ہےکہ پولیو ایک قابل علاج مرض ہے اوراس بیماری کا تدارک پولیو ویکسین کےصرف دو قطرے پلانےسےممکن ہے

مگرکتنےافسوس کی بات ہے کہ اس کے باوجود آج بھی پاکستان میں کچھ ایسےعلاقےموجود ہیں جہاں والدین اپنےبچوں کوویکسین کےقطرے پلوانے کےلیےرضامند نہیں ہیں

حال ہی میں مشرق وسطیٰ کےایک ملک 'شام' میں اس موذی مرض کی موجودگی کےچونکادینےوالےانکشاف نےنوع انسانی کواس سوچ میں مبتلا کردیا ہےکہ پولیوویکسین سےمحروم بچوں کی نقل وحمل دوسرے بچوں کے لیےخطرے کاباعث بن سکتی ہے

یہی وجہ ہےکہ ناصرف پاکستان بلکہ اقوام عالم کو پولیوسےچھٹکارا دلا نے کےلیےہمیں اورصائمہ جیسی دیگرباہمت خواتین کومشترکہ طورجراتمندی کےساتھ اس موذی مرض کوشکست دینا ہوگی

ٹیلی ویژن پرایک مختصردورانیہ کےمفادعامہ کے پیغام میں، جسے پاکستان بھرمیں سات کروڑکےقریب ناظرین نےملاحظہ کیا، صائمہ لیا قت ایک حقیقی کردارکےساتھ پردہ سکرین پرجلوہ افروزہوتی ہیں۔ یہ وہی صائمہ ہیں جنھیں کم سنی میں پولیوکےباعث جسمانی کمزوری کا سامنا کرنا پڑا۔ آ ج وہ ایک بیوی اورتین بچوں کی ماں ہیں اورپولیوکوشکست دینےوالی ایک فاتح خاتون کےطورپراپنے پیغام میں تمام والدین کواس بات پرزوردے رہی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کولازمی پولیوویکسین دلوائیں

میرےخیال میں وہ والدین اپنےبچےکےبدترین دشمن ہوتے ہیں جوانہیں بروقت پولیوسےبچاؤکی ویکسین نہیں دلواتے۔ ذرا سی غفلت کے نتیجے میں خدانخواستہ اگربچےکوکسی معذوری کاسامنا کرنا پڑجائےتوآپ کے پاس سوائےافسوس اورپچھتاوے کےکچھ باقی نہیں رہتا

ایک ذمہ دارماں کےطورپرصائمہ نےاس موذی مرض کوکبھی بھی اپنےگرد ونواح میں پنپنےکی اجازت نہیں دی

جب میرے بچے بڑے ہوئے تو میں انہیں لیکر پارک جاتی، جہاں میں انکے ساتھ تمام گیمزکھیلتی ہوں جیسے بیڈ منٹن، کرکٹ۔۔۔۔ اور اپنےطور پران کی جسمانی اورذہنی نشونما کاہرلحاظ سےخیال رکھتی ہوں

میں لوگوں کویہ ثابت کرناچاہتی ہوں کہ میں نےکبھی معذوری کو اپنے اوپرحاوی نہیں ہونےدیا بلکہ بھرپورحوصلےاورہمت سےاسکا مقابلہ کیا۔" یہی وجہ ہے کہ صائمہ کی جراتمندانہ مثالی زندگی اسکےاپنے بچوں کے لیےمشعل راہ بن چکی ہے

میں ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں تاکہ اپنی ماں کاعلاج کرسکوں،" یہ کہناہےاسکی معصوم بیٹی ہمنا کا۔"اب مجھے پتہ چلا ہےکہ یہ مرض لاعلاج نہیں ہے 

اس بیٹی کےعزم سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ صائمہ نےکس طرح اپنے بچوں میں گزرے ہوئےکل پرافسوس کی بجائے مستقبل کوسنوارنےکاعزم پیدا کیا ہے۔ اور یہ اسی تربیت کااثر ہے کہ دنیا بھرکے بچوں کواس موضی مرض سے ہمیشہ کےلیےنجات دلوانےکےلیےہمنا کی آوازمیں ایک سوز اوراثر ہے 

یہ بات کسی تشنگی سےکم نہیں کہ اس کی ماں کی زندگی آج مختلف ہو سکتی تھی اگراس نے بچپن میں پولیو ویکسین کےدو قطرےپی لیے ہوتے، اوراسی افسوس کااظہارہمنا یوں کرتی ہے 

 کاش میر ے نانا۔نانی نےمیری ماں کوپولیوکےقطرے پلائےہوتے توآج وہ (ماں)اس شدت کرب سے دوچارنہ ہوتیں