زندہ دلانِ شہر لاہور میں پولیو کے قطرے پینے سے مسلسل محروم رہنے والے بچوں تک رسائی میں مراکز صحت کا کلیدی کردار

زندہ دلانِ شہر لاہور میں پولیو کے قطرے پینے سے مسلسل محروم رہنے والے بچوں تک رسائی میں مراکز صحت کا کلیدی کردار

Share

 

لاہور: "صحتی امور کی سرکاری سہولت یہاں سے کچھ فاصلے پر واقع ہیں جس کی وجہ سے اس سہولت سے استفادہ حاصل کرنا ہمارے لیے ایک مشکل عمل ہے۔ تاہم یہ مرکز صحت ہماری رہائش کے قریب واقع ہے جس کی وجہ سے ہم عام طور پر اپنے بچوں کو ویکسینیشن کے لیے یہاں لے کر آ تے ہیں"۔ ایسا کہنا ہے 10 سالہ ننھے مَشال خان کی والدہ کا جو لاہور کے قدیم وکٹوریا سکول میں خصوصی طور پر قائم کیے گئے مرکز صحت میں اپنے بچے کو مہلک بیماریوں سے بچائو کے لیے حفاظتی قطرے پلوانے لائی ہیں

۔مَشال کی والدہ کا کہنا ہے، " جب سے ہم نے اپنے آبائی گھر سے نقل مکانی کی ہے میرا بچہ گذشتہ مہم کے دوران نا صرف پولیو سے بچائو کے حفاظتی قطرے پینے سے بلکہ ملیریا سے بچائو کی حفاظتی ویکسین لینے سے بھی محروم رہا۔ اس مرکز صحت کی وجہ سے آج میں اپنے بچے کو پولیو اور اِس جیسی دیگر مہلک بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے میں خوشی محسوس کر رہی ہوں"۔

مشال ان 1600 بچوں میں سے ایک ہے جنہوں نے گذشتہ چند دنوں میں اس طبی مرکز میں آ کر ویکسینیشن کی سہولت سے استفادہ حاصل کیا۔ جبکہ دیگر تین مراکز صحت لاہور میں انتہائی تشویش کی یونین کونسلوں 90، 118 اور یونین کونسل نمبر 67 میں قائم کیے گئے ہیں۔

سال 2016ء کے آخر تک پنجاب میں پولیو کے موذی وائرس سے متاثرہ بچوں کی تعداد صفر تھی، لیکن سال 2017ء کے ابتدائی مہینے میں ہی پنجاب کے جنوبی حصے میں واقع ضلع لودھراں میں پولیو وائرس کے حملے سے جسمانی معذوری کا شکار ہونے والے بچے کا واقع منظر عام پر آیا۔ اس موذی مرض کی وجہ سے جسمانی معذوری کا شکار ہونے والے بچے کے والدین شدید ذہنی کرب میں مبتلا ہو گئے۔ پولیو سے متاثرہ اس بچے کی ابتدائی طبی تشخیص اور علاقے سے لیے گئے مختلف ماحولیاتی نمونہ جات پر تجرباتی تشخیص کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ متعلقہ علاقے میں پولیو وائرس کے پھیلائو کی بنیادی وجہ اس علاقے کے بچوں کی بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخواہ کے صوبوں میں پولیو سے متاثرہ قرار دیے گئے علاقوں میں مسلسل سفری امور سرانجام دینا ہے۔

درج بالا میں بیان کی گئی لاہور کی تین یونین کونسلوں کو پولیو کے موذی وائرس کی موجودگی کے حوالے سے انتہائی تشویشناک تصور کیا جاتا ہے کیونکہ ان یونین کونسلوں میں رہائش اختیار کرنے والے خاندان کے زیادہ تر افراد صوبہ بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخواہ کے ان علاقوں میں اکثر سفر اختیار کرتے ہیں جنھیں پولیو کے موذی وائرس کی ممکنہ موجودگی کے حوالے سے انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ یہ مراکز صحت ایسے تمام بچوں کی شناخت اور ان تک رسائی کے عمل کو ممکن بنانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے پولیو سے بچائو کے حفاظتی قطرے پینے اور دیگر مہلک بیماریوں سے بچائو کے حفاظتی ٹیکے لگوانے سے مسلسل محروم رہے ہیں۔ایسے تمام بچوں کی ویکسینیشن کا عمل صوبہ پنجاب کے محکمہ امور صحت کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے جو پولیو مہم کے دوران کسی نہ کسی وجہ سے پولیو سے بچائو کے حفاظتی قطرے پینے سے محروم رہ جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ صوبہ پنجاب کے ذمہ داران نے خصوصی طور پر ترتیب دی گئی حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے جس کی مدد سے پولیو کے موذی وائرس سے متاثرہ انتہائی حساس قرار دیے گئے علاقوں میں موجود بچوں تک رسائی اور انہیں پولیو سے بچائو کے حفاظتی قطرے پلانے کے عمل کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ رواں سال مئی کے مہینے میں نیشنل امیونائزیشن ڈرائیو کے تحت ایسے 3 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچائو کے حفاظتی قطرے پلائے گئے۔ پنجاب کے محکمہ امور صحت کی جانب سے صحت کے مراکز کا قیام مفاد عامہ کے ان کلیدی اقدامات میں سے ایک ہے جس کی مدد سے احساس محرومی کا شکار ان علاقوں تک رسائی اور بچوں میں ویکسینیشن کے عمل کو یقینی بنایا جا رہا ہے جہاں کسی نہ کسی وجہ سے بچے پولیو سمیت دیگر مہلک بیماریوں سے بچائو کی حفاظتی ویکسین کے حصول سے مسلسل محروم رہے تھے۔ 

موسم گرما کی شدید تپش کے باوجود، سکول کی بھاری بھرکم دیواروں کی وجہ سے یہاں آنے والے سائلین کو گرمی کے احساس میں کمی محسوس ہوتی ہے۔ جمعہ کے روز اس مرکز صحت پر دن کے اوقات میں لوگوں کا کافی رش رہتا ہے اور آمدورفت کا یہ سلسلہ سہ پہر دیر تک جاری رہتا ہے۔

پولیو سمیت دیگر مہلک بیماریوں سے بچائو کے حفاظتی قطروں اور ٹیکہ جات کے علاوہ ڈینگی سے بچائو کی حفاظتی تدابیر سے متعلق آگاہی کے لیے عوام کی دلچسپی کو مدد نظر رکھتے ہوئے سکول کے احاطے میں مختلف سٹالز بھی قائم کیے گئے ہیں۔

ڈسپنسری میں سائلین کو مفت ادویات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ڈاکٹروں کے تشخیصی عمل سے قبل مرض کی تفصیلی معلومات کے حصول کے لیے لیڈی ہیلتھ وزیٹرز مرکز صحت میں مریضوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہوتی ہیں۔ مرکز صحت میں ایک علیحدہ کائونٹر بھی قائم کیا گیا ہے جہاں ایسی تمام بچوں کی رجسٹریشن کی جاتی ہے جن کے پیدائشی سرٹیفیکیٹ دستیاب نہیں ہوتے۔ ڈاکٹر ناگزا جو کہ مرکز صحت میں مریضوں کے تشخیصی عمل میں اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں انکا کا کہنا ہے، " علاقے کے لوگوں کا اس حوالے سے مثبت ردعمل عوام کا صحت سے متعلق سرکاری سہولیات پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو گا"۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کے تعاون سے قائم ایک غیر سرکاری تنظیم "کمیونیکیشن نیٹ ورک" نے چار کے قریب میڈیکل کیمپوں میں لوگوں کو آگاہی فراہم کرنے اور بچوں کو موذی امراض سے بچائو کے حفاظتی قطرے پلوانے اور ٹیکے لگوانے کے لیے آمادہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ دستیاب اعدادو شمار کے مطابق 1600 قریب مریضوں نے مختلف بیماریوں کی تشخیص و علاج کے لیے ان چار میڈیکل کیمپوں کا رخ کیا۔ 437 سے زائد بچوں کو معمول کی ویکسینیشن فراہم کی گئی جبکہ ان میں سے 70 کے قریب بچے ایسے تھے جنہیں پہلی مرتبہ ویکسینیشن فراہم کی گئی۔ 94 ایسے بچوں کو معمول کی ویکسینیشن فراہم کی گئی جو کسی وجہ سے پولیو سمیت دیگر موذی امراض سے بچائو کی حفاظتی ویکسین لینے سے محروم رہ گئے تھے۔ 322 کے قریب ایسے بچوں کو مفت پولیو سمیت دیگر مہلک بیماریوں سے بچائو کی حفاظتی ویکسین فراہم کی گئی جن کے ویکسینیشن کی تاریخ قریب آن پہنچی تھی۔ میڈیکل کیمپ کے قیام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یونین کونسلوں کے سیکرٹریوں نے 125 بچوں کی رجسٹریشن بھی کی یہ وہ بچے تھے جن کے پاس ان کے پیدائشی سرٹیفیکیٹ موجود نہیں تھے۔

ایمرجنسی اپریشن سینٹر کے کوارڈینیٹر، ڈاکٹر منیر احمد نے کام نیٹ سمیت میڈیکل کیمپ میں تعینات عملے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا، "حبس کے اس موسم میں ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اور کام نیٹ کے عملے کی خدمات مثالی ہیں کو کہ رمضان کے مبارک مہینے سے قبل ان محروم طبقات کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں۔ حکومت پنجاب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کے تعاون سے اس منصوبے کو صوبے کے دیگر اضلاع تک پہنچانے کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے۔پولیو کے موذی وائرس سے متاثرہ علاقوں میں مسلسل آمدورفت سے وابستہ بچے ان علاقوں میں پولیو وائرس کے پھیلائو کا سبب بن سکتے ہیں جنھیں پولیو سے محفوظ علاقے قرار دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر منیر کا کہنا ہے، "اس میڈیکل کیمپ کے ذریعے ہم ایسے تمام بچوں کو پولیو سمیت دیگر موذی امراض سے تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں"۔

عالمی سطح پر پاکستان، افغانستان اور نائجیریا وہ بقایا رہ جانے والے ممالک ہیں جہاں پولیو کے موذی وائرس کی موجودگی کے آثار آج بھی موجود ہیں۔ رواں سال پاکستان اور افغانستان میں مجموعی طور پر 5 کے قریب پولیو کے کیسز منظر عام پر آئے ہیں۔ پاکستان سے رپورٹ کیے جانے والے پولیو کے دو کیسز میں سے ایک کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع لودھراں جبکہ دوسرے کا تعلق گلگت بلتستان کے علاقے دیا میر سے ہے۔مشال کی والدہ کا کہنا ہے، "ہم میڈیکل کیمپ کی انتظامیہ کے انتہائی مشکور ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے ہمیں اپنے بچوں کو مختلف مہلک بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے اور وقت کی بچت میں انتہائی مدد ملی ہے"۔