بنوں میں پولیو ویکسینیشن سے محروم آخری بچے تک رسائی

بنوں میں پولیو ویکسینیشن سے محروم آخری بچے تک رسائی

Share

 

پاکستان کے چار صوبوں میں سے ایک صوبہ جس کا نام خیبر پختونخواہ ہے، ملک کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے۔ اس صوبے کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ان افراد پر مشتمل ہے جو اچھے روزگار اور بہتر معیار زندگی کی تلاش میں مسلسل بین ملکی بلکہ اکثر اوقات علاقائی و صوبائی سطح پر نقل و حمل میں مصروف رہتے ہیں۔ ایسے افراد کو پولیو وائرس کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کے حوالے سے انتہائی تشویش کے ذمرے میں شمار کیاجاتا ہے۔ پاکستان سے پولیو کے مکمل تدارک کے لیے ویکسینیشن سے محروم بچوں تک رسائی بلاشبہ ایک پیچیدہ عمل ہے۔ اسی لیے ایسی صورتحال سے باطریق احسن نبردآزما ہونے کے لیے جدید خطوط پر استوار حکمت عملی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ مذہبی رہنمائوں اور پولیو کے قطرے پلانے کے لیے خواتین کی خدمات کا حصول حکمت عملی کے وہ چند بنیادی عوامل ہیں جن کے تحت ہر بچے تک رسائی اور اسے پولیو سے بچائو کے حفاظتی قطرے پلانے کے عمل کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔صوبہ خیبر پختونخواہ کے صدر مقام پشاور کے جنوب میں 200 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع علاقہ 'بنوں' خیبر پختونخواہ کا ایک چھوٹا سے ضلع ہے۔ گذشتہ چند سالوں کے دوران یہ علاقہ بد امنی اور سیکورٹی کی تشویشناک صورتحال سے متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے 90 فیصد افراد کی عارضی آبادکاری کا ذریعہ بن چکا ہے۔ پولیو ویکسینیشن کے حوالے سے غلط فہمیوں اور من گھڑت کہانیوں پر مبنی تصورات جو کہ بنوں کے قدامت پسند علاقہ مکینوں کو گمراہ کرنے کے لیے پھیلائے جاتے ہیں، ان تصورات کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے مذہبی رہنما پولیو کے خاتمےکے پروگرام میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مذہبی بنیادوں پر اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کرنے والے افراد کو دلائل کے ساتھ اس بات پر قائل کیا جائے کہ پولیو سے بچائوکے حفاظتی قطروں کی افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے والدین اپنے بچوں کو لازمی حفاظتی قطرے پلوائیں۔پلوشہ جو کہ ضلع بنوں کی رہائشی ہیں، صرف چار سال کی تھیں جب ان پر پولیو وائرس نے اچانک حملہ کر دیا۔ "مجھے نہیں معلوم کی اچانک میری ٹانگ کو کیا ہوا۔ میرے والدین مجھے ہر ڈاکٹر، ہسپتال اور بحالی معذوراں کے سینٹرز پر علاض کے لیے مارے مارے پھرتے رہے— ہم لوگوں کی زندگی لگ بھگ ایک ماہ مسلسل سفر میں گزری لیکن کو ئی فائدہ نہیں ہوا۔ یہ میری زندگی کا طویل ترین اور انتہائی دردناک وقت تھا"۔ پلوشہ نے آہ بھرتے ہوئے بتایا۔جسمانی معذوری کے سبب زندگی کی کھٹن راہوں کو پس پشت ڈال کر پلوشہ نے ان مشکلات کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر پولیو کے خاتمے کے لیے جاری جنگ میں حصہ لینے کا اصولی فیصلہ کیا ۔ اپنی غیر معمولی باہمی رابطہ کاری اور اعتماد سازی کی خصوصیات کی وجہ سے وہ 2015 کے لیے بطورپولیو ویکسینیٹر  پولیو پروگرام کا حصہ بنیں۔

نئی تحقیق، تیار حکمت عملی اور بالخصوص کام کے دوران فیلڈ میں عوامی رابطہ کاری کی بہترین تکنیک کے استعمال کے حوالے سے یہ بات عیاں ہے کہ عوامی رویوں میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے باہمی رابطہ کاری کی مہارت کامیابی کے حصول کی اہم کنجی ہے جس کے تحت عوامی رائے کو مثبت سمت موڑنے میں مدد مل سکتی ہے۔ دنیا بھر میں اس حوالے سے جدید خطوط پر استوار حکمت عملی متعارف کرائی جا رہی ہے جس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے پاکستان میں صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ وارانہ افراد کو باہمی رابطہ کاری کی مہارت پر تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ بہتر انداز میں اپنے فرائض سرانجام دے سکیں۔ موثر رہنمائی اور رابطہ کاری کے ذریعے انفرادی سطح پر ابتدائی مرحلے سے لے کر عوامی رویوں میں تبدیلی تک کی منزل کو با آسانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ضلع بنوں میں تعینات ایک ایریا کوارڈینیٹر عمران کا کہنا ہے، "ہیلتھ ورکرز اور بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے والا عملہ پور امہینہ بچوں کے والدین / نگہداشت پر مامور افراد اور علاقہ مکینوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں اور ان کے ساتھ نہ صرف صحت مند زندگی سے متعلق اہم معلومات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں بلکہ والدین / نگہداشت پر مامور افراد اور علاقہ مکینوں کے تحفظات پر انکی اطمینان بخش رہنمائی بھی کرتے ہیں"۔ انکا مزید کہنا تھا، "علاقہ مکین صحت کے مسائل کے حوالے سے جاننا اور سیکھنا چاہتے ہیں اور ہم محسوس کرتے ہیں کہ بطور ہیلتھ ورکرز یہ ہماری اولین ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے لوگوں کے ساتھ صحت کی سہولیات کے بارے میں مکمل معلومات کا تبادلہ کریں"۔ پلوشہ نے جب پولیو سے بچائو کے اس پروگرام کے ساتھ وابستگی کا آغاز کیا اس وقت انکے علاقے میں 250 سے زائد ایسے واقعات مشاہدے میں آئے جن میں بچوں کے والدین / نگہداشت پر مامور افراد اور علاقہ مکینوں نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے علاقے میں 80 فیصد سے زائد بچے پولیو سے بچائو کے حفاظتی قطرے پینے سے محروم تھے۔ پلوشہ نے اسے بطور چیلنج قبول کرتے ہوئے ہیلتھ ورکرز کی ٹیم کے ساتھ  مشترکہ جدوجہد کا آغاز کیا۔ وہ بچوں کے والدین /  نگہداشت پر مامور افراد اور علاقہ مکینوں سے علیحدہ علیحدہ روزانہ کی بنیادوں پر ملاقات کرتی تھیں اور انفرادی سطح پر انکے ساتھ امورِ صحت سے متعلق معلومات کے تبادلے کے علاوہ پولیو پروگرام سے وابستہ مذہبی شخصیات کی مدد سے عوامی رویوں کو مثبت سمت میں تبدیل کرنے کے حوالے سے اپنی خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتیں۔ پلوشہ کی محنت، صلاحیت اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں وہ اپنےعلاقے میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کرنے والے والدین / نگہداشت پر مامور افراد اور علاقہ مکینوں کی شرح صفر پر لانے میں کامیاب ہو گئیں۔ پلوشہ کی کامیابیوں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ایریا کواڈینیٹر عمران کا مزید کہنا ہے، "یہ ہمیشہ سے ہمارے ورکرز اور علاقہ مکینوں کی مشرکہ جدوجہد کے ساتھ ہی ممکن ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہمیں ہمارا مقصد حاصل کرنے میں مدد کی۔ اگرچہ اب ہم پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد کا ہندسہ صفر پر لانے میں کامیاب ہو چکے ہیں تاہم اس کامیابی کو ہمیشہ کے لیے مستحکم بنانے کے لیے ہماری تمام ٹیموں کو مل کر اس جدوجہد کو جاری رکھنا ہو گا۔