پاکستان پولیو سرویلینس نیٹ ورک: پولیوکے خاتمے کی جدوجہد کے پیچھےکارفرما خاموش طاقت

پاکستان پولیو سرویلینس نیٹ ورک: پولیوکے خاتمے کی جدوجہد کے پیچھےکارفرما خاموش طاقت

Share

 

سخی سرور، 23 اپریل 2017: پاکستان کے صوبہ پنجاب کے چھوٹے سے قصبے سخی سرور میں قائم ایک محدود صحت سہولت مرکز میں ڈاکٹر اجالا نئیر جو کہ عالمی ادارہ صحت (WHO) کی جانب سے پنجاب کے لیے بطور سرویلینس آفیسر اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں، ایک پتلے سے رجسٹر میں درج حالیہ مہینوں میں تعینات کیے گئے ڈاکٹروں کی فہرست کا جائزہ لے رہی ہیں جبکہ ضلعی سرویلینس کوارڈینیٹر ساتھ میں انکی معاونت کے لیے کھڑی ہیں۔ وہ اس تمام ریکارڈ کا بغور مطالعہ کر رہی ہیں جس میں پولیو سے متاثرہ بچوں میں نمودار ہونے والے اثرات جیسے بازو، ٹانگوں یا جسم کے کسی حصے کا اچانک مفلوج ہو جانا جو کہ اکیوٹ فلیسڈ پیرالیسز (AFP) کے طور پر جانا جاتا ہے شامل ہیں۔وہ رجسٹر کے ذریعے ان تمام ضروری معلومات کے اندراج کا جائزہ لیتی ہیں جو پولیو سے ممکنہ طور پر متاثرہ بچے کی تشخیص کے لیے تعینات ایک ڈاکٹر کے لیے جاننا انتہائی ضروری ہیں۔ جیسے پولیو کی ابتدائی علامات کیا ہیں اور اگر کسی بچے کو جسم کے کسی حصے کے اچانک مفلوج (AFP) ہونے کی صورت میں مرکز صحت لایا جائے تو ایسی صورت میں ایک ڈاکٹر کو فوری طور پر کیا کرنا چاہیے۔ اس قسم کا تفصیلی جائزہ دراصل پنجاب میں اس مشاورتی عمل کا حصہ ہے جس کے تحت پولیو کے تدارک کے لیے جاری عالمی پروگرام کے لیے نگرانی کے معیاری عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔ڈاکٹر نئیر اور انکی ٹیم صرف ایک مقصد کو لے کر کام کر رہی ہیں اور وہ ہے: پولیو کا مکمل خاتمہ۔ پنجاب میں 47000 سے زائد خواتین ہیلتھ ورکرز، مذہبی رہنما، روایتی طبیب اور  10000 سے زائد ڈاکٹروں پر مشتمل نیٹ ورک صوبے میں پولیو سے متاثرہ معذور بچوں کی نشاندہی میں ان کی ٹیم کی مدد کرتے ہیں۔ صرف پنجاب میں 4774 جگہوں سے ایسے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جن میں بچوں کی معذوری میں پولیو وائرس کو ممکنہ طور پر بنیادی عُزر قرار دیا گیا۔ جسم کے کسی حصے کے اچانک مفلوج (AFP) ہو جانے سے متاثرہ بچوں کے ماہانہ بنیاد پر پاخانے/فضلا کے  800 سے زائد نمونہ جات اکھٹے کیے گئے جنھیں تحقیق کے لیے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) تشخیص کے لیے بھجوایا جاتا ہے تا کہ بچوں میں جسمانی معذوری کی اصل وجہ کا پتہ چلایا جا سکے۔ یہ معلومات پولیو کے خاتمے کے لیے جاری پروگرام (PEI) سے وابستہ ٹیم کو اس قابل بناتے ہیں کہ پولیو مہم کے دوران ان علاقوں تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکےجن علاقوں میں پولیو وائرس کے ممکنہ طور پر پھیلنے کے حوالے سے خصوصی طور پر نشاندہی کی گئی ہو۔پنجاب کے 36 اضلاع میں 47 سے زائد پولیو اریڈیکیشن آفیسرز پر مشتمل نیٹ ورک لگاتار اس امر کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل رہتا ہے کہ جسمانی معذوری کا کوئی بھی کیس ان کی نظروں اور دماغ سے اوجھل نہ ہو۔ صوبہ پنجاب کے علاقے لودھراں سے حال ہی پولیو کے شکار افراد سے متعلق دستیاب معلومات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پنجاب میں پولیو کے خاتمے کے لیے پروگرام کی نگرانی کا نظام کتنی حساس نوعیت کا ہے۔نگرانی کا عمل پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے جاری پروگرام  کے دیگر بنیادی اور اہم ترین عوامل میں سے ایک ہے۔ علاوہ ازیں اس ضمن میں جدید خطوط پر استوار دیگر حکمت عملی بھی متعارف کرائی جا رہی ہیں تاکہ جسمانی حصوں کی عارضی معذوری (AFP) کے کیسز پر رپورٹنگ کے لیے میڈیکل افسران اور کنسلٹنسٹس کے لیے تربیتی نشستوں کا انعقاد کیا جا ئے تاکہ نگرانی کے عمل کا تفصیلی جائزہ لینے کے علاوہ پولیو وائرس کی ممکنہ موجودگی اور پھیلائو کی جگہوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ ڈاکٹر نئیر کا کہنا ہے، "پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لیے بہت زیادہ احتیاط سے کام لینا ہو گا"۔