پاکستان میں پولیو کے خلاف جاری جنگ اورخواتین کا ناقابل فراموش کردار-

پاکستان میں پولیو کے خلاف جاری جنگ اورخواتین کا ناقابل فراموش کردار

Share


 

9مارچ2016- برِاعظم ایشیا کے جنوبی حصے میں واقع ملک پاکستان میں پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے جاری جدوجہد میں خواتین کا جراتمندانہ کردار مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے ۔ سینکڑوں نہیں ہزاروں خواتین، جنہوں نے مختلف کرداروں کو اپناتے ہوئے اپنی خدمات پولیو سے محفوظ معاشرے کی تشکیل کے لیے وقف کر دی ہیں۔ ان کرداروں میں قطرے پلانے والی خواتین سے لیکر لیڈی ہیلتھ ورکرز، سماجی طبقات میں آگاہی کے عمل سے وابستہ کارکن، یونین کونسل سطح پر پولیو ورکرز، علاقائی درجہ پر رابطہ کار خواتین اور پولیو خاتمے کے پروگرام سے وابستہ افسران شامل ہیں جو کہ مجموعی طور پر روزانہ کی بنیادوں پر طبقاتی سطح پر قائم تنظیموں کے اشتراکی تعاون سے پولیو جیسےموذی وائرس سے بچائو اوربچوں میں قوت مدافعت کےاضافے کے لیے قطروں کی شکل میں دستیاب ویکسین اور حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی یقینی بنانے میں ہمہ وقت مصروفِ عمل رہتی ہیں ۔

آئیےآپ کو ایسے ہی ایک جراتمند کردار "نورجہاں" سے ملواتے ہیں جو کہ پولیو پروگرام کی وابستگی سے قبل ایک سکول ٹیچر تھیں۔ تاہم انہوں نے اپنے اس پختہ عزم کو یقین میں بدلنے کی ٹھان لی کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو وائرس سے مکمل آزاد پاکستان میں پروان چڑھائیں گی ۔

"پولیو پروگرام سے وابستگی کےآغاز میں مجھے اس وائرس سے متعلق کوئی خاطرخواہ معلومات نہیں تھیں۔ پھرمیں نے جانا کہ یہ ایک انتہائی تکلیف دہ مرض ہے۔ لیکن ایک ماں ہونے کی حیثیت سے جب میں نے خود کے دونوں بچوں کو صحتمند، تندرست وتوانا اور بھاگتے دوڑتے دیکھا تو میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ توبس اس رحمت کے ثمرات محسوس کرتے ہوئے میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے پولیو سے متاثرہ بچوں کی نگہداشت اوراس وائرس کی روک تھام کے لیے اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔"

دیگر ہزاروں خواتین میں سے ایک ایسی خاتون جو کہ پاکستان میں جاری پولیوسےنجات کے پروگرام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، نورجہاں کے بارے میں کچھ یوں اظہارِ خیال کرتی ہیں کہ "وہ ایک باہمت اور دردِدل رکھنے والی خاتون ہیں۔ سنہء 2013 میں جب انہیں یونین کونسل کی سطح پر بطور پولیو ورکر نامزدگی کی پیشکش کی گئی تو انکے شوہر "عصمت اللہ" نے ناصرف اس مقصد کی حسسا سیت کو محسوس کیا بلکہ اپنی زوجہ (نورجہاں) کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں اس پیشکش کو قبول کرنے کی کھلے دل سے اجازت دی اور ساتھ ہی امورِ خانہ داری میں بھی ان کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔" ان کے شوہر اس وقت بےروزگار تھے۔

راولپنڈی کا علاقہ "کنٹونمنٹ9" جوکہ41 مربع کلومیٹرکےرقبے پرمحیط ہے اورمختلف آبادیوں بالخصوص افغان مہاجرین اورخانہ بدوش پشتونوں پر مشتمل ہے نورجہاں کو دیا گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں یہ بظاہر نا قابلِ تسخیر کام سونپا گیا تاہم انکے شوہر کی جانب سے تعاون کی پیشکش اور ٹیم کے دیگر اراکین کی اجتماعی جدوجہد سے مذکورہ علاقے میں رہائش پذیر پانچ سال سے کمر عمر کے بائیس ہزار آٹھ سو پینسٹھ (22,865) بچوں تک ان کی رسائی باآسانی ممکن ہو سکی ۔

"وہ بطورڈرائیورمیرے ساتھ خدمات سرانجام دیتےرہے، مختلف علاقوں تک باحفاظت اور بروقت رسائی میں ان کا اہم کرداررہا ہے۔"

عصمت اللہ تقریباَ اٹھارہ ماہ تک رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے، اس دوران انہوں نے اپنی زوجہ کا پولیو پروگرام سے متعلق مختلف کاموں میں ہاتھ بھی بٹایا،جیسے قطرے پلانے کی مہم کے آغاز سے قبل محروم رہ جانے والے بچوں اور علاقوں کی نشاندہی، انتہائی چھوٹےدرجے پرمنصوبہ بندی اورناصرف ماہانہ بلکہ روزانہ کی بنیادوں پر اس بات کی یقین دہانی کرنا کہ قطرے پینے سے محروم رہ جانے والے بچوں کو اورل پولیو ویکسین (OPV) کے دو قطرے فراہم کر دیے گئے ہیں۔

پاکستان کے کئی حصوں اور بلاشبہ جس علاقے میں نورجہاں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں وہاں آج بھی حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول کے دوران بچوں کو ویکسین کے قطرے پلانے یا ٹیکہ جات کے استعمال کے لیے مرد کارکنوں کوگھرمیں داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ نورجہاں بتاتی ہیں کہ بطورخاتون وہ ان ثقافتی و سماجی رکاوٹوں سے آزاد اپنی خدمات فراہم کرتی ہیں۔

"جب پہلی مرتبہ میں نے اپنے کام کا آغازکیا تو خانہ بدوش پشتونوں سے ابتدائی رابطہ کاری ایک مشکل عمل تھا۔ وہ کسی کو بھی اپنے گھر میں آ نے کی اجازت نہیں دیتے تھے حتیٰ کہ میرے شوہر بھی میرے انتظار میں باہر کھڑے رہتے۔ لیکن پھر جب میں ان لوگوں سے پشتو میں گفتگو کرتی تووہ مجھے اور بالآخر میر ے شوہر کو بھی قبول کر لیتے، کیونکہ ہم میاں بیوی کا تعلق بھی پشتون گھرانے سے ہے۔"

وہ مزید بتاتی ہیں کہ اپنی کمیونٹی کے ساتھ یکساں زبان میں بات چیت کرنےاوراسی طرح یکساں سماجی وثقافتی اقداراورعقائد کے پرچار کے باعث انہیں بچوں کی ایک ایسی بڑی تعداد تک رسائی ممکن ہوئی جو کسی وجہ سے پولیوکے قطرے پینے سے محروم رہ جاتے تھے۔

خواتین سوشل موبلائزرز اور ویکسینیٹرزکی زیادہ سے زیادہ بھرتیوں کےعمل سے ایک بات تو ثابت ہو گئی ہے کہ پاکستان کی ہربچےتک رسائی میں درپیش مسائل اورچیلنجزسے نمٹنے کا یہی ایک واحد راستہ ہے۔

محتاط اعدادوشمار کے مطابق پورے پاکستان میں ایک لاکھ ستتر ہزار (177,00) کے قریب پولیو کے قطر ے پلانے والے اراکین (ویکسینیٹرز) اپنی خدمات سرانجام دے ر ہے ہیں جن میں اٹھا ون (58) فیصد کے قریب خواتین شامل ہیں، جبکہ ہزاروں خواتین ویکسینیشن کے عمل میں سماجی رابطہ کارکے طورپربھی اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں ۔

رواں ہفتے، نورجہاں اورانکےشوہر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے ملحقہ جڑواں شہرراولپنڈی کےعلاقے کنٹونمنٹ9 کےدورے پر ہونگے۔ یہ جوڑا 41کلومیٹر کے رقبے پر محیط علاقے، کنٹونمنٹ 9 میں انتہائی اہم نوعیت کے امور سرانجام دیں گے

 

مائیکروپلانز کی توثیق۔

 

پولیو خاتمے کے پروگرام میں مائیکروپلان کوایک ایسا تفصیلی دستاویزقراردیا جاتا ہےجوویکسینیشن کی مہم کےحوالےسے منصوبہ بندی کے اطلاق، قوتِ مدافعت میں بلاتعطل اضافےکے لیے طےشدہ ٹارگٹس کاحصول اوربتائےگئےجغرافیائی علاقوں میں ویکسین سےمحروم رہ جانےوالے بچوں کی نشاندہی اوران تک رسائی جیسے عوامل کویقینی بنانےکے لیےرہنمائی فراہم کرتا ہے۔

پولیو پروگرام سے مستفید ہونے والی آبادی کے حجم کے تعین سے ویکسین کی مطلوبہ مقدار کی فراہمی، پولیوقطرے پلانے والے ہیلتھ کیئرکےاراکین اورسپروائزرز کی مناسب تعداد میں نامزدگی کےعلاوہ ہیلتھ کیئر کےاراکین کودور د رازعلاقوں تک رسائی کے لیے سفری سہولیات کی فراہمی پر اٹھنےوالے اخراجات کا تخمینہ لگانے میں بھی مدد ملتی ہے۔

"مائیکروپلانز کی توثیق اور اس سے رہنما ئی کا حصول ہمارے کام کا انتہائی اہم جزو ہے۔ یہ پلانز بنیادی طور پر نقشہ جات پر مشمل ہوتے ہیں جنھیں ایک ایک سکول اور گھر کو جانے والے راستوں سے مزین کرکے بڑی تفصیل سے تیار کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں ان نقشہ جات میں پولیو ٹیم کی رہنما ئی کےلیےعلاقے میں مجوزہ داخلے اوراخراج کے تمام راستوں کی نشاندہی ہوتی ہے تا کہ پولیوپروگرام سے وابستہ اراکین کی بروقت اورباحفاظت نقل وحرکت کو یقینی بنایاجا سکے۔"

نورجہاں کہتی ہیں، اگرچہ یہ ایک طویل مدتی اورتھکا دینے والی جدوجہد ہے، تاہم یہ ایک ایسی حوصلہ افزا سرگرمی بھی ہے جو آپ میں دوسروں کےکام آنےکاجذبہ ابھارتی ہے۔

کینٹ9 علاقے کا کوئی ایک بھی کونہ مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے، وہ کہتی ہیں کہ یہاں ابھی بھی کئی ایسے خاندان موجود ہیں جنہیں بچوں کو پولیو ویکسین دلوانے کے لیے قائل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ لوگ پولیو پروگرام کےعلاوہ ملک میں جاری دیگر صحت سے متعلق لاتعداد منصوبوں کی وجہ سے بیزارہوچکے ہیں، لیکن ہم اسےایک چیلنج کےطورپرقبول کر چکے ہیں کہ پاکستان میں موجودایک بھی بچے کو پولیو ویکسینشن سے محروم نہیں رہنے دیاجائے گا۔