پولیوکا شکاردینی مدرسہ کا معلم ---- موذی وائرس کےخاتمےکیلئےپرعزم-

پولیوکا شکاردینی مدرسہ کا معلم

Share


 

"میں اللہ کے آگے جھکتا ہوں لیکن میں کسی انسان کے آگے اپنے پائوں پر کھڑا نہیں ہو سکتا"

کراچی، 24مارچ2013- ۔ پاکستان— ایک ایسا ملک ہے جہاں مذہبی عقائد اور پولیو پروگرام کے مابین اکثر ہم آہنگی کا قفدان دیکھنے میں آتا ہے— قاری عقیل بچوں کو قران اور اسلام کی بنیادی تعلیمات کا درس دیتے ہیں۔ وہ انہیں اپنی زندگی کے اس تکلیف دہ تجربہ کے بارے میں بھی بتاتے ہیں کہ کیسے وہ پولیو جیسے موذی مرض کا شکار بنے۔

کراچی کے پسماندہ علاقہ میں قائم ایک مدرسہ میں بطور معلم، قاری عقیل وہاں دینی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں اور انکے والدین کو اسلامی نقطہ نظر سے پولیو ویکسین کی اہمیت کے بارے اکثر و بیشتر آگاہ کرتے رہتے ہیں۔

کراچی شہر پاکستان میں پولیو وائرس کی ان تین بنیادی آماجگاہوں میں سے ایک ہے جہاں آبادی کے ایک بڑے حصے کی نقل و حمل اور عدم تحفظ کے باعث پولیو کے خاتمے کیلئےجاری جدوجہد میں کامیابی کا حصول مشکل بن جاتا ہے۔

اس فلمائی گئی دستاویزی فلم میں، عقیل غلط فہمیوں اور سیاست کے ان چند پہلوئوں سے پردہ اٹھاتے ہیں جو اکثر پولیو ویکسینیشن کے عمل کو گرد آلود خیالات کی نظر کر دیتے ہیں۔

فلم میں وہ بھرپور طریقے سے اس بات پر لوگوں کی توجہ دلانے میں کامیاب دکھائی دیتے ہیں کہ نوجوانی کی عمر میں پولیو کے باعث معذوری کے ساتھ زندگی گزارنا کتنا تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔ اورکیسے پوری دنیا کے لوگ ایک مرتبہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اس موذی مرض کے تدارک کے لیے۔

بطور ایک بچہ، عقیل تعلیم کے حصول اور اپنے رب کے ساتھ رابطہ جوڑنے کی جدوجہد میں گھر سے نکلتا ہے لیکن دوسرے بچے اسکی معذوری کے باعث اسے دھتکارتے ہیں اور اسکا مذاق اڑاتے ہیں خاص طور پرجب وہ عقیل کو کراچی کی گلیوں میں بیساکھیوں کے سہارے مدرسے کی جانب جاتے دیکھتے ہیں۔

آج، بطور ایک جوان آدمی، عقیل اپنی نئی حاصل کردہ وہیل چیئر کو جب دیکھتا ہے تو بےساختہ اسکی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوتے ہیں: "اب جب وہ مجھے دھکا دیتے ہیں تومیں اورتیزی سے حرکت کرتا ہوں"۔

اسکا آواز اٹھانا بذات خود پولیو کے خاتمے کیلئے جاری جدوجہد میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔