سیکورٹی خدشات اورسنگلاخ پہاڑوں کے درمیان ایک رضا کار ایک مشن

سیکورٹی خدشات اورسنگلاخ پہاڑوں کے درمیان ایک رضا کار ایک مشن

Share


 

کوئٹہ، صوبہ بلوچستان۔۔۔1فروری2016: رضاکاری ایک ایسا نظریہ ہےجو ہمارے جیسے معاشروں میں شاید اجنبی رویے کے طور پر مسترد کر دیا جاتا ہے۔ لیکن معاشرتی تنائو سے بےخبر ایک باہمت شخص لیویز فورس کا رسالدارمحمد اکرام اپنی رضاکارانہ خدمات کے ذریعےیونین کونسل "آغبرگ" کو 100فیصد پولیووائرس سےمحفوظ بنا کر کامیابی کی اعلیٰ ترین مثال قائم کر رہا ہے۔

آغبرگ صوبہ بلوچستان میں پولیو سے سب سے زیادہ متاثرہ ضلع کوئٹہ کی یونین کونسلوں میں سےایک ہےجہاں پانچ سال سے کم عمرپر مشتمل اڑتیس سوسے چارہزارایسےبچوں کی نشاندہی کی گئی ہےجو کسی وجہ سے مذکورہ وائرس کے تدارک کےلیے دستیاب پولیو کےقطرے پینےسے محروم رہ گئے ہیں۔ ایک وقت وہ تھا جب اس یونین کونسل میں تقریباَ سات سےآٹھ سو بچوں کےوالدین نےانہیں قطرے پلوانےسےانکارکردیا تھا،تاہم آج یہاں پولیو سے بچائو کے لیے جاری ویکسینیشن کےعمل میں100فیصد کامیابی حاصل ہوچکی

یہ انکشاف ضلع کوئٹہ میں جاری مہم کی تکمیل کےبعد حالیہ سروےکےدوران سامنے آیا ہے۔ یہ کامیابی غیرترقیاتی تنظیم کمیونیکیشن مینجمنٹ نیٹ ورک، شعبہ صحت سے وابستہ ضلعی انتطامیہ کے اہلکاروں اور دیگرشراکتی اداروں کی مشترکہ کوششوں سےعمل میں آئی ہے، تاہم اس کامیابی کا اصل سہرا رسالدارمحمداکرام کےسرہے

35سالہ محمد اکرام بلوچستان کی لیویزفورس میں گذشتہ پانچ سالوں سے بطوررسالداراپنی خدمات سرانجام دیتےرہے ہیں۔ اس کےعلاوہ وہ ایک سرگرم رضاکار بھی ہیں جوپولیومہم کےدوران درپیش ممکنہ سیکورٹی خدشات سےنمٹنا بخوبی جانتے ہیں۔ 30سےزائد لیویز کے سیکورٹی اہلکاروں پرمشتمل دستہ ان کے ہمراہ ہوتا ہےجوکہ ان کےاحکامات پرپولیومہم کے لیےسازگارماحول کی فراہمی کو یقینی بناتےہیں۔

صوبہ بلوچستان میں سیکورٹی کی غیر یقینی صورتحال اور پولیو ورکرزکی جانوں کولاحق ممکنہ خطرات کے پیشِ نظرمحمداکرام کا کہنا ہے، "ان حالات میں پولیو ورکرز کو سیکورٹی کی فراہمی بذاتِ خود کی ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے، حتیٰ کہ پولیو ٹیم پر معمورکئی سیکورٹی اہلکاراس ضمن میں اپنی جانوں کانظرانہ پیش کرچکے ہیں۔"

ان کا مزید کہنا ہے کہ "ہمیں ان چیلنجز کا معمول میں سامنا رہتا ہے تاہم میرا مقصد پولیو مہم کے دوران اپنی ذمہ داریوں کو پوری ایمانداری اورتن دہی سےسرانجام دینا ہےتا کہ آنےوالی نسلوں کے لیے پاکستان کوپولیوسےمکمل محفوظ بنایاجاسکے

وہ (محمد اکرام) اپنی ذات میں پختہ عزم، دیانتداری اور ثابت قدمی پر مشتمل مجموعی کرداروں کی ایک ایسی منفرد داستان ہے جس نے اپنی علاقےکو پولیووائرس سے نجات دلانےمیں کوئی کَسرنہیں چھوڑی۔ سرکارکی نوکری کےساتھ ساتھ وہ اپنےحلقہ احباب میں قبائلی عمائد کےطورپربھی جانےجاتےہیں،جس کےباعث انہیں اپنےعلاقے میں پولیوجیسےموذی مرض کےخلاف جدوجہد کی حمایت میں زیادہ دشواریوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے۔ محمد اکرام کی ایک اوربڑی کامیابی یہ بھی ہےکہ وہ انتہائی بااحسن طریقے سے اپنےعلاقے کے عمائدین، علماءکرام اورقابلِ ذکرشخصیات کواس بات پر قائل کرنے میں کامیاب رہے ہیں کہ بچوں کو پولیوکےقطرے پلوائےبغیریونین کونسل (آغبرگ) کو پولیوسےمکمل محفوظ نہیں بنایاجاسکتا ۔ ان کے علاقےمیں موجود اہلِ علم اورسماجی کارکنان بھی پولیو وائرس سے نجات کے لیےجاری اس جدوجہد میں رسالدارمحمد اکرام کےشانہ بشانہ اپنا فعال کردارادا کرتےدکھائی دیتے ہیں

رسالدارمحمد اکرام کو پولیو مہم میں انکی گراں قدررضاکارانہ خدمات کےنتیجے میں دومرتبہ بالترتیب شہید ڈپٹی کمشنرمنصورکاکڑاورڈپٹی کمشنرکوئٹہ،دائود خلجی کےہاتھوں اعزازبرائےحسنِ کارکردگی سے نواز گیاَ۔ یونین کونسل آغبرگ،پولیومہم میں100فیصد مثبت تنائج کے ساتھ مثالی یونین کونسل گردانی جاتی ہے