پولیو کا عالمی منظرنامہ

پولیو کا عالمی منظرنامہ

پوچھے جانے والے سوالات

 

کیا اچانک شدید فالج کی نگرانی کا نظام (اے-اف-پی سرویلنس) اس بیماری کا کھوج لگانے میں مددگار ہوتا ہے؟ 

 

اچانک شدید فالج (AFP) کی نگرانی کا نظام پولیو کے خاتمے کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ پاکستان اور دنیا بھر میں مرض کی نگرانی کا نظام ہے۔ اگر کسی بچے میں ٹانگ، بازو، یا جسم کے کسی حصے میں اچانک کمزوری کی علامات ظاہر ہو جائیں، تو محکمہ صحت کے حکام کو فوری طور پر مطلع کیا جاتا ہے تاکہ مقررہ وقت کے اندر اندر بچے کے پاخانے کا نمونہ لیا جا سکے اور یہ تجزیہ کیا جا سکے کہ پاخانے میں پولیو کا وائرس تو موجود نہیں۔



پولیو جیسے موذی مرض کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی ادارے ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے ہنگامی اقدام کے بعد سال 1988ء سے لیکر اب تک پولیو کے خلاف جاری عالمی جنگ میں گراں قدر کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ محتاط اعدادو شمار کے مطابق اس جنگ کے نتیجے میں دنیا بھر میں پولیو کیسز کی تعداد میں ٪99 تک کمی واقع ہوئی ہے۔ سال 1988ءمیں پوری دنیا سے لگ بھگ 350000 کے قریب پولیو کیسز ریکارڈ کیے گئے جو کہ حیران کن حد تک کمی کے بعد سال 2012ءمیں صرف 223 رہ گئے تھے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سال 1988ء میں پولیو سے متاثرہ ممالک کی تعداد 125 سے زائد تھی جو کہ اب صرف جنوبی ایشیا کے دو ممالک پاکستان اور افغانستان تک محدود ہو کررہ گئی ہے۔

 

سال 1988ء سے اب تک 200 سے زائد ممالک،2 کروڑرضاکاروں کےغیرمعمولی تعاون اور20ارب ڈالر کی بین الاقوامی مالی امداد کے ذریعےتقریباَ 5.2ارب بچوں کوپولیوکے خلاف حفاظتی حصارفراہم کیا جاچکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 1کروڑ سے زائد ایسےبچے جو کہ ممکنہ طور پراس مرض کے باعث معذوری کا شکارہوسکتے تھے وہ آج پولیو کے خاتمےکے لیے جاری اس پروگرام کے باعث صحت مند زندگی گزار رہے ہیں۔ پولیو کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کے باعث بہت سے ممالک میں تندرست و توانا معاشرے کے قیام کی جدوجہد میں صحت سےمتعلق سہولتی نظام کومزید مستحکم کرنےکے لیے بین الاقوامی برادری کی جانب سے خطیررقم کی سرمایہ کاری بھی کی جا رہی ہے ۔ اس پروگرام سے وابستہ ہزاروں ہیلتھ ورکرزکوتربیت کی فراہمی، لاکھوں رضاکاروں کوپولیو کے خاتمے کے لیے جاری حفاظتی خطرے پلانے کی مہم میں متحرک کر نے کے ساتھ ساتھ کولڈ-چین ٹرانسپورٹ کےسامان کی معیاری حالت میں دستیابی کو یقینی بنا دیا گیا ہے۔

 

 اس طرح پولیو پروگرام کی سرگرمیوں کے دوران وٹامن- اے کے منظم انتظام کی مدد سے 15لاکھ سے زائد بچوں کی زند گیاں بچا لی گئی ہیں۔

جہاں پولیو کے خاتمے کے لیے جاری پروگرام میں مجموعی طور پر حاصل ہونے والی گراں قدر کامیابیوں کی داستانیں زبان زد عام ہیں وہیں صرف ایک فیصد کے قر یب بقایا رہ جانے والے پولیو کیسز سے نمٹنے میں پروگرام سے وابستہ اراکین کو تھکا دینے والی دشواریوں کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے جس کے باعث گذشتہ ایک عرصے کے دوران پروگرام کے لیے مختص اخراجات میں غیر متوقع اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پولیو سے متاثرہ باقی ماندہ دو ممالک کے کچھ حصوں میں مذکورہ وائرس کی موجودگی کا خاتمہ، صحت کے شعبے میں دورحاضر کا سب سے بڑا چیلنج ہے جس سے بطریق احسن نمٹنے کے لیے صحت کے عالمی ادا رے اور انکی شراکتی ذیلی تنظیمیں کامیابی کے حصول کے لیے مسلسل کمربستہ ہیں۔ اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ جب تک ان بقایا رہ جانے والی آماجگاہوں سے پولیو جیسے موزی مرض کا مکمل خاتمہ نہیں کر لیا جاتا، دنیا بھر میں بچوں کی زندگیوں کو ممکنہ طور پرلاحق خطرات کے سائے منڈلاتے رہیں گے۔ صحت کے شعبہ سے وابستہ محقیقین کا ماننا ہے کہ متاثرہ بقایا رہ جانے والی پناہ گاہوں سے اس موذی وائرس کی ترسیل کے باعث پولیو سے پاک ممالک کسی بھی وقت دوبارہ اس وائرس کے حملے کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس کی وضاحت کچھ یوں بھی کی جا سکتی ہے جو کہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بقایا رہ جانے والے متاثرہ علاقوں سے پولیو کے مکمل خاتمہ میں ناکامی اس موذی مرض کے بڑے پیمانے پر حیاتِ نو کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس ممکنہ صورتحال کے نتیجے میں، دس برسوں پر محیط عرصہ کے دوران دنیا کو ہر سال دوبارہ دولاکھ سے زائد نئے پولیو کیسز کا سامنا کرنا پڑ سکتا

 

انسانیت کی قدو و منزلت کے پیشِ نظر جانوں کے اتنے بڑے پیمانے پر ضیاع کو روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پراقدامات اٹھانے کی فوری ضروت ہے چاہے اس کے لیے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ 

 

بین الطبقاتی تنازعات، سیکورٹی کی غیر موزوں صورتحال، سیاسی عدم استحکام اور آبادی کے بڑے حصے تک رسائی میں دشواریاں، یہ سب چند ایسے بنیادی عوامل ہیں جو اس موذی وائرس کے خاتمے کے لیے جاری جدوجہد کی راہ میں تسلسل کے ساتھ رکاوٹ کا باعث بنے ہوئے ہیں اور انہیں مقامی سطح پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ پولیو سے متاثرہ رہ جانے والے ممالک میں سے ہر ایک اپنے آپ میں ان بتائے گئے درپیش چیلنجز کا ایک منفرد مجموعہ ہے۔ ان چیلنجزپر قا بو پانے کے لیے دونو ں ممالک میں نیشنل ایمر جنسی ایکشن پلان ترتیب دے دیا گیا ہے جس کے اطلاق کاعمل جاری ہے ۔ یہاں ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ اکھٹے کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق سال 2013ء کے اوائل میں پولیو کیسز کی تعداد تاریخ کی کم ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی، صرف چند کیسز اور وہ بھی چند ممالک کے چند اضلاع سے رپورٹ ہوئے۔

 

پولیوکےخاتمےکےلیےجاری اس جدوجہد کی تکمیل کےلیے، متاثرہ ممالک میں بین الاقوامی امدادی اداروں کی جانب سے مالی تعاون میں اضافہ اوران ممالک میں موجود سیاسی طاقتوں کی پختہ قوتِ ارادیت موجودہ حالات میں وہ ناگزیرعوامل ہیں جن کے بغیر کامیابی کا حصول ممکن نہیں ۔

 

شعبہ صحت سے وابستہ محقیقین کےمطابق، ایک بھی بچےمیں پولیوکےاثرات کی موجودگی سےناصرف اس وائرس کےحیاتِ نو بلکہ دنیا کے کسی بھی کونے میں بسنے والے بچوں میں اس موذی وائرس کی منتقلی کے وسیع ترامکانات موجود رہیں گے جنہیں نظراندازنہیں کیا جاسکتا۔

 

پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے باوجود بھی ان ممالک میں درپیش چیلنجز سے روگردانی نہیں کی جا سکتی۔ پولیو خاتمے کے عالمی پروگرام کے زیرانتظام مذکورہ وائرس کے مکمل خاتمے کے بعد پولیوکودوبارہ ان علاقوں میں سراءیت سے روکنے کے لیے مظبوط منصوبہ بندی ہی پولیو سے ہمیشہ کے لیے نجات کی ضامن ہے۔ اور اس کے لیے قطرے پلانے کی مہم کو پولیو سے بچائو کے لیے حفاظتی ٹیکوں پر منتقلی کے ذریعے اس موذی وائرس سے مستقل نجات حاصل کی جاسکتی ہے ۔ علاوہ ازیں صحت کے عالمی اداروں کی جانب سے دنیا کو پولیو سے مستقل نجات کے لیے،کچھ نئی اور پائیدار خصوصیات سے مزین حکمت عملی Polio Eradication and Endgame Strategic Plan کا اطلاق کیا جا رہا ہے جو کہ طویل مدتی مسائل اور ممکنہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رہنمائی کاایک تفصیلی اورمکمل دستاویز ہے ۔ پولیو کی عالمی صورتحال سے متعلق مزید معلومات کے لیے یہ ویب سائٹ ملا حظہ کیجئیے

www.polioeradication.org